جناب خدیجہ  ؑکے محکم عقائد وبلند کردار

۱۔محکم ایمان اور راسخ عقیدہ

  حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہاصرف یہی نہیں کہ پروردگار اور اس کے رسول پر حقیقی ایمان اور جنت و جہنم اور ثواب و عقاب پر محکم عقیدہ رکھتی تھیں  بلکہ اس راہ میں آپ نے دیگر کمال طلب اور حق جو عورتوں پر سبقت بھی حاصل کر لی تھی جیسا کہ متعدد رویات میں آیا ہے کہ سب سے پہلی عورت جس نے اسلام قبول کیا،خاتم الانبیاء پر ایمان لائی اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی وہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہاتھیں ۔

(بحارالانوارج ۳۸ ،ص۲۱۱)

جناب عباس سے مروی ہے کہ : اول من آمن برسول اللہ من الرجال علی ومن النسا ء خدیجہ  رسول خدا  ﷺپر سب سے پہلے ایمان لانے والے مردوں میں حضرت علی  ؑ اور عورتوں میں جناب خدیجۃ الکبری ہیں۔    

    (بحارالانوارج ۳۸ ،ص۲۱۱)

۲۔نجابت وپا کدامنی

جناب خدیجہ کا ایک اہم لقب جسے آپ کی نجابت و پاکدامنی اور طہارت کی بنا پر جوانی ہی میں قریش نے آپ کو دیا تھا ’’طاہرہ‘‘ہے وہ رسول خدا  ﷺسے شادی سے پہلے بھی طہارت ونجابت کی اس منزل پر تھیں کہ قریش کے سردار اور بنی ہاشم کے سید وسالار جناب ابوطالب نے آپ کی تعریف کچھ اس طرح کی :ان خدیجۃ امراۃ کاملۃ میمونۃ فاضلۃ تخشی العار و تحذر النشار ۔بے شک خدیجہ ایک کامل ،مبارک اور بافضیلت خاتون ہیں وہ ہر عیب و عار سے پرہیز کرتی ہیں اور ہر طرح کی بدنامی اور رسوائی سے دوری کرتی ہیں

  (بحار الانوار ،ج۱۶،ص۵۶)

۳۔تلاش حق اور قبول حق

ایسے بہت سے افراد ہوتے ہیں جو دنیاوی چمک دمک اور مادی وسائل و امکانات اور مال و دولت اور قدرت و ثروت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ خود پرستی اور نفس امارہ کی سرکشی میں گھر جاتے ہیں لیکن خدیجہ اس بلند کردار خاتون کو کہتے ہیں جو زرو زیور مال و ثروت ، جمال وکمال ، شہرت وعزت ، اقتدار و استقلال سے برخوردارہونے کے باوجود ان آفتوں سے دور رہیں اور ہمیشہ حق کو تلاش اور اسے قبول کرنے والی فطر ت سے بھرہ مند رہیں ۔

روایات میں آیا ہے کہ رسول خدا  ﷺ پر پے در پے فرشتہ وحی کے نزول اور آیات قرآنی کے لانے کے بعد جناب خدیجہ  ؑ آہستہ آہستہ قرآن کی ہدایت بخش اور زندگی ساز آیات اور جبرائیل امین کانام اور خدا کے نزدیک ان کی منزلت سے باخبر ہوتی رہیں اور حق طلبی کے جذبہ نے انہیں اس سلسلہ میں مزید تحقیق کرنے پر آمادہ کیا تاکہ علم ومعرفت اور صحیح طریقہ سے حق کو پہچان کر اسے قبول کرنے اور اسکی پیروی کرنے میں سبقت حاصل کر لیں ۔

۴۔ایثار وجانثاری

جناب خدیجہ  ؑبخشش ،ایثار اور فدا کاری میں اس درجہ مشہور ومعروف تھیں کہ جناب ابوطالب  ؑ نے رسول خدا  ﷺ سے آپ کے رشتہ کے دوران ان کے گھر والوں سے اسطرح فرمایا تھا:اس وقت میرا بھتیجا آپ کی اس دختر نیک اختر سے رشتہ کے لئے آیا ہے جو صاحب بخشش و سخاوت اور باطہارت وبا عفت ہے ۔

(بحار الانوار ج۱۶،ص۶۹)

جناب خدیجہ ؑنے بھی اپنے سگائی کے دوران اپنی سخاوت اور بخشش کو دکھایا اور پوری رضایت اور خوشنودی کے ساتھ اپنے مہر کو اپنے مال سے ادا کیا اور رسول خدا ﷺکو ہدیہ کر دیا

( کافی ج ۵،ص۳۷۴)

اس عظیم المرتبت خاتون نے رسول خدا  ﷺکے ساتھ ازدواج زندگی میں اپنی سار ی دولت و ثروت رسول خدا  ﷺکے حوالے کردیا یہاں تک کہ ابن عباس کا بیان ہے کہ ٓایہ کریمہ ’’ووجد ک عائلا فاغنی ‘‘سے مراد جناب خدیجہ ؑ کی دولت وثروت کے ذریعہ رسول خدا  ﷺکو بے نیاز کرنا ہے ۔

(بحار الانوار ج۳۵،ص۴۲۵)

کفار قریش کی جانب سے رسول اکرم  ﷺ اور آپ کے باوفا اصحاب کی تین سال تک شعب ابی طالب میں ناکہ بندی کے سخت اور روح فرسانہ زمانہ میں ان حضرات کی پائیداری اور استقامت کی ایک اہم وجہ جناب خدیجہ کا مالی جہاد تھا ۔آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسلام کی پائیداری اور مسلمانوں کی نجات کے لیے اپنی ساری دولت قربان کردی اور دین خدا کی سربلندی میں ایک اہم اور نمایا ں کردار اداکیا اسی لئے بعض حق شناس علماء نے کہا ہے کہ:کفا ہا شرفا ان الاسلام لم یقم الا بمالہا وسیف علی ابن ابی طالب کما روی متواترا   اس خاتون کی عظمت وشرف کے لئے یہی کافی ہے کہ اسلام پائیدار نہیں ہوا مگر اسکی دولت وثروت اور حضرت علی ابن ابی طالب  علیہما السلام کی تلوار سے جیسا کہ تواتر کے ساتھ اس بات کی روایت کی گئی ہے

(تنقیح المقال فی علم الرجال  ،ج۳،ص۷۷)

۵۔صداقت

جناب خدیجہ علیہ السلام کا ایک لقب ’’صدیقہ ‘‘ہے جسکے معنی ہیں بہت زیادہ سچی اور نیک کردار۔بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ صدیق اور صدیقہ وہ ہے جس کی گفتار ،عقیدہ اورفکر صحیح ہو اور اپنی سچا ئی اور صداقت کو اپنے صحیح کردار کے ذریعہ ثابت کرے ۔(تاج العروس ،لفظ صدق)

بے شک جناب خدیجہ  ؑصداقت اور سچائی کا بہترین نمونہ تھیں چنانچہ رسول خدا  ﷺکے آپ کی وفات پر اور آپ کو الوداع کرتے وقت اشکبار آنکھوں فرمایا :خدیجہ ؑ کے بارے میں گفتگوکی ؟خدیجہ ؑجیسا صداقت اور سچائی کا نمونہ کہاں مل سکتا ہے ؟اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور دین خدا کی راہ میں اس نے میری حمایت کی اور اپنی دولت و ثروت کے ذریعے میری مدد کی ۔

۶۔صبر و استقامت

امام جعفر صا دق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :جب سے جناب خدیجہ نے رسول خدا سے شادی کی تھی مکہ کی عورتوں نے ان سے قطع رابطہ کرلیا تھا وہ نہ ان کی گھر آتی تھیں اور نہ ہی ان کو سلام کرتی تھیں اور نہ ہی اس بات کی اجازت دیتی تھیں کہ کوئی عورت ان سے ملاقات کے لئے ان کے پاس جائے ۔اسی لئے جناب خدیجہ  ؑخوف وہراس اور غم و اندوہ کا احساس کررہی تھیں لیکن جب جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آپ کے شکم میں تھیں تو وہ آپ سے باتیں کرتی تھیں اور اپنی ماں کو صبر و تحمل کی دعوت دیتی تھیں   (بحار الانوار ج ۱۶،ص۱۸)

جب جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے سخت لمحات قریب ہوئے تو قریش کی کوئی عورت بھی آپ کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی جس کی وجہ سے حضرت خدیجہ  ؑ زیادہ غمگین تھیں کہ اچانک آپ نے چار بلند قد آور عورتوں کو دیکھا ان میں سے ایک نے کہا : اے خدیجہ ؑ!غمگین نہ ہو کہ ہم آپ کی بہنیں ہیں اور ہم خدا کی جانب سے آپ کی مدد کے لئے آئی ہیں ۔میں سارہ زوجہ ابراہیم ہوں اور یہ آسیہ بنت مزاہم ہیں جو جنت میں آپ کی ہمنشین ہوں گی اور یہ مریم بنت عمران ہیں اور یہ چوتھی خاتون جناب موسی کی بہن کلثوم ہیں اس وقت ان چار خواتین نے جناب فاطمہ کی ولادت باسعادت کے سلسلہ میں جناب خدیجہ ؑکی مدد کی ۔(بحار الانوار ج ۶،ص۲۴۶)

ہاں ایک ایسی خاتون جو رسول اکرم  ﷺسے شادی سے پہلے ہر طرح کے مادی امکانات اور وسائل سے بھرہ مندتھی اور ایک آرام وسکون کی زندگی بسر کر رہی تھی لیکن  اس نے رسول خدا  ﷺ کے ساتھ ازدواجی زندگی میں طرح طرح کے رنج و مصا ئب اور محرومیوں کو برداشت کیا ، جیسا کہ اپنے فرزندوں میں سے عبداللہ ،قاسم اور طاہر کا داغ اٹھانا جو بچپنے ہی میں دار فانی کو وداع کہہ گئے ، مکہ کی عورتوں کے طعنے سننا اورمشرکین کے ہاتھوں اپنے شوہرنامدار پر ہونے والے آزار و اذیتوں کو دیکھنا ۔لیکن اس عظیم المرتبت خاتون نے ان سخت اور برے حالات میں بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور اس آیہ کریمہ کی بارز مصداق قرار پائیں کہ  {وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآئَ وَجْہِ  رَبِّہمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہمْ  سِرًا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَئُوْونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہمْ عُقْبَی الدَّارِ}

(سورہ توبہ آیۃ۲۲)

 اور جو لوگ اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو روزی ہم نے انہیں دی ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں اور نیکی کے ذریعے برائی کو دور کرتے ہیں آخرت کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ رسول خدا  ﷺنے ارشاد فرمایا تھا :امرت ان ابشر خدیجۃ ببیت من قصب لا ۔۔۔۔۔۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ ؑکو اس بات کی بشارت دے دوں کہ جنت میں ان کیلئے چاندی کاایک ایسامحل ہے جس میں نہ کسی طرح کا کوئی شور وغل ہوگااور نہ ہی کوئی رنج وبیماری ہوگی ۔(بحار الانوار ج ۱۶،ص۷)

نکتہ ۱:حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا بستر بیماری پر تھیں اپنے شوھر گرامی حضرت خاتم النبین  سے الوداع کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہو گئی ہوتو مجھے معاف کرنا ،لیکن میری ایک درخواست ہے میری بیٹی زہرا سلام اللہ علیھا کا خیال رکھنا اور میری ایک وصیت ہے مجھے آپ سے ڈائیرکٹ با ت کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے میں اپنی بیٹی زہرا سے کہہ دیتی ہوں یہ آپ کو بتا دے گی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا نے اپنی بیٹی  کوبتایا پھر حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کو رسول خدا نے بلایا اور ان سے پوچھا عرض کی باباجان  میری ماں کہہ رہی ہے میں بہت ہی ثروت مند تھی میں نے رضا خدا میں اور آپکی خوشنودی کی خاطر سب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ہے اب میری قدرت نہیں ہے کہ میں کفن خرید سکوں میں چاہتی ہوں کہ اپنی قبا اور ردا سے مجھے کفن دے دینا اور خاک کے سپر د کردیناتاکہ میں فشار قبر سے محفوظ رہ جاوں جونہی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کی یہ بات رسول خدا تک پہنچی جبرائیل نازل ہوا اور ایک بہشت سے کفن لے آیا پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل وحنوط وکفن پہنایا ،نمازجنازہ کابندوبست کیا تدفین کااہتمام کیا ۔لیکن میں یہاں پر یہ جملہ بیان کروں گا اے رسول خدا کاش آپ کربلا میں بھی آجاتے تواپنے نواسے کوکفن دے دیتے ۔۔۔۔۔۔۔(گریزھای مداحی ص۵۴)

نکتہ ۲:جب حضرت خدیجہ کاانتقال ہوا توپیامبر اکرم بہت غم زدہ تھے آنکھوں سے آنسو جاری تھے

فقط انہی ایام نہیں بلکہ زندگی کاطولانی عرصہ جب بھی حضرت خدیجہ کی یاد آتی یانام سنتے آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے حضرت زہرا سلام اللہ علیھابھی پریشان تھیں بےقرار تھیں اپنے بابا ارد گرد چکرلگاتیں اور پوچھتی تھیں (یَااَبَہ اَینَ اُمِّی) باباجان میری کہاں ہے میرادل ماں کے لیے تنگ ہورہا ہے بتاوبابا میری ماں کہاں ہے بارباریہی سوال دہراتی تھیں اللہ تعالی کے فرشتے نازل ہوئے جو بی بی زہرا سلام اللہ علیھا کوتسلی دیتے حضرت خدیجہ کوخبر دیتے پیار کرتے پھر تسلی دیتے یہاں پھر یہ بیان کروں گا کہ حضرت زہرکی عمر کم تھی فرشتے آگئے لیکن کربلا میں ایک بچی جوبابا

با با کررہی تھی آواز دے رہی تھی میرا بابا کہاں ہےبی بی زینب نے فرمایا سفر پر گیا ہے رو رہی تھیں گریہ کررہی تھیں آواز دی رہی تھیں میرا بابا کہاں ہےتو ایک کٹے ہوئے گلے سے آواز آئی اے میرے سینے پر سونے والی اِلیّ اِلیّ  تیرے بابا ادھر ہے ۔۔۔

رسول خدا نے اس سال کا نا م عام الحزن رکھا دو ہستیاں اس دینا سے گئیں  کاش رسول خدا کربلا میں ہوتے  اور دیکھتے کہ سید سجاد علیہ السلام  پر کیا گزر رہی ہے ۲ نہیں ۱۸  لاشے بنی ہاشم کےبغیر کفن کے پڑے ہیں۔۔۔

 

تحریر: ڈاکٹر مولانا ممتاز حسین بھڈوال