نہج البلاغہ ایسا بابرکت نام ہے کہ قرآن مجید کے بعد جتنی اس کتاب کی پذیرائی ہوئی کسی اور کتاب کی نہیں ہوئی۔ وہ ساعت کتنی حسین تھی اور وہ لمحہ کتنا قیمتی تھا جب مولف نے ماہ رجب المرجب میں اس مجموعہ کا نام نہج البلاغہ رکھا اور خداوند متعال نے اس مجموعے کو وہ مقبولیت بخشی جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نہج البلاغہ نے عربی ادب اور اسلامی دور کے ادیبوں پر نہایت لازوال اثر چھوڑا ہے۔

 شریف رضیؒ نام رکھنے کے بعد فرماتے ہیں:

(و رأيت من بعد تسمية هذا الكتاب بنهج البلاغة، إذ كان يفتح للناظر فيه أبوابها و يقرّب عليه طلابها، و فيه حاجة العالم و المتعلّم، و بغية البليغ و الزاهد و يمضي في أثنائه من عجيب الكلام في التوحيد و العدل، و تنزيه اللّه سبحانه عن شبه الخلق، ما هو بلال كلّ غلّة، و جلاء كلّ شبهة)

’’  اور میں نے اس کتاب کا نام نھج البلاغہ رکھنے کے بعد دیکھا کہ اس کتاب میں دیکھنے والوں کے لیے طرح طرح کے ابواب کھلتے ہیں اور اس کے طلب کرنے والے اس کی قربت حاصل کرتے ہیں۔ یہ کتاب ضرورت ہے عالم اور طالب علم دونوں کے لیے اور مطلوبہ شی ہے پہنچنے والے اور ترک کرنے والے دونوں کے لیے۔ علی علیہ السلام نے اپنے عجیب و غریب کلام کے دوران توحید اور عدل کی بات کرتے ہیں اور اللہ کو مخلوقات کی مشابہت سے پاک وپاکیزہ قرار دیتے ہیں۔ یہ کتاب ہر پیاسے کیلئے سیرابی اور ہر شبہہ کو دور کرنے کے لیے ایک طرح کی روشنی ہے۔‘‘

 نہج البلاغہ کو مرتب کیا، چوتھی صدی ہجری کے نابغہ عصر، یگانہ دھر ابو الحسن محمد بن احمد الطاہر(ذی المنقبتین) الحسین بن موسی الابرش بن محمد الاعرج بن موسی بن ابراھیم بن الامام موسی بن جعفر علیہ السلام نے، ماں باپ دونوں طرف سے اعلی حسب اور ن سب کے مالک تھے۔

 آپ کی ولادت ۳۵۹ھ میں ہوئی اور وفات 40۶ ہجری میں بغداد میں، دفن کیے گئے۔ آپ کے والد نقیب الطالبین تھے اور امارت حج آپ کے ذمہ تھی۔

ابو حامد  عبدالحمید ہبۃ اللہ المدائنی  المعروف ابن ابی الحدید نہج البلاغہ کی شرح میں رقمطراز ہیں:

’’ شیخ مفید ابو عبد اللہ محمد بن نعمان فقیہ امامی نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی مسجد جو کرخ میں واقع ہے وہاں بیٹھے ہوئے ہیں کہ ناگاہ حضرت فاطمۃ الزہر سلام اللہ علیہا دخترپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اپنے دونوں بیٹوں کو جو ابھی بچے ہیں، لے کر آئی ہیں اور شیخ مفید کے سپرد کر رہی ہیں اور فرما رہی ہیں کہ انہیں فقہ کی تعلیم دو۔ شیخ مفید خواب سے بیدار ہوئے، کیا دیکھا کہ صبح  کے وقت فاطمہ بنت الحسین بن الحسن الناصر مسجد میں داخل ہوئیں،  ان کے ساتھ ان کی کنیزیں تھیں اور ان کے دو چھوٹے بیٹے محمد رضی اور علی مرتضی ان کے ساتھ تھے، شیخ ان کے احترام میں کھڑے ہوئے۔ فاطمہ نے کہا اے شیخ! میں اپنے ان دو بچوں کو آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ آپ انہیں فقہ کی تعلیم دیں۔ شیخ مفید نے گریہ کیا اور اپنے خواب ان سے بیان کیا اور دونوں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری قبول فرمالی اور ان کے لئے علوم و فنون کے دروازے کے اس طرح کھول دیئے کہ آج سید رضی اور سید مرتضی شہرت کے آسمان پر پہنچے ہوئے ہیں۔‘‘

 سید رضی نے اپنے شاگردوں کے لئے ایک مدرسہ تعمیر کیا تھا جس کا نام دارالعلم رکھا تھا اور اس میں مطالعے کے لیے قیمتی کتب دستیاب تھیں۔  بغداد میں ان کی محفل دانشوروں کا گلدستہ اور ان کا گھر طالب علموں کا مدرسہ تھا۔ ان کا کتب خانہ بغداد کے نادر و نایاب خزانوں کا بڑا قیمتی گنجینہ مانا جاتا تھا۔

 سید رضی نے اپنے استاد کی نہج  پر ائمہؑ کی سوا نح پر کوئی کتاب لکھنا چاہی اور انہوں نے اس کا نام(خصائص الائمہ) تجویز کیا۔ اس کتاب کا پہلا باب سوانح امیر المومنین علیہ السلام سے متعلق تھا۔ وہ اپنی کتاب خصائص الائمہ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:

(كنت في عنفوان السن و غضاضة الغصن، ابتدأت تأليف كتاب في خصائص الائمة عليهم السلام يشتمل على محاسن أخبارهم و جواهر كلامهم، حداني عليه غرض ذكرته في صدر الكتاب و جعلته أمام الكلام، و فرغت من الخصائص التي تخص أمير المؤمنين عليا عليه السلام، و عاقت عن اتمام بقية الكتاب محاجزات الايام و مماطلات الزمان. و كنت قد بوبت ما خرج من ذلك أبوابا و فصلته فصولا، فجاء في آخرها فصل يتضمن محاسن ما نقل عنه عليه السلام من الكلام القصير في المواعظ و الحكم و الامثال و الاداب دون الخطب الطويلة و الكتب المبسوطة، فاستحسن جماعة من الاصدقاء ما اشتمل عليه الفصل المقدم ذكره معجبين ببدائعه و متعجبين من نواصعه، و سألوني عند ذلك أن ابدأ بتأليف كتاب يحتوي [على ما وقع الي من] مختار كلام أمير المؤمنين عليه السلام في جميع فنونه و متشعبات غصونه من خطب و كتب و مواعظ و آداب، علما أن ذلك يتضمن من عجائب البلاغة و غرائب الفصاحة و جواهر العربية و ثواقب الكلم الدينية و الدنياوية ما لا يوجد مجتمعا في كلام و لا مجموع الاطراف فى كتاب)

’’ میری چڑھتی جوانی تھی اور طبیعت میں رعنائی تھی کہ میں نے خصائص الائمہؑ کی تعلیم کا آغاز کیا جو ان کے بہترین حالات اور ان کے منتخب کلام پر مشتمل تھی۔ میں ایک خاص وجہ سے اس طرف مائل ہوا تھا جسے میں نے کتاب کے آغاز میں بیان کیا ہے اور میں نے اسے محققین کے سامنے پیش کر دیا تھا اور میں ان خصوصیات سے فارغ ہو گیا تھا جو امیر المومنینؑ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں اور کتاب کے بقیہ حصے کو مکمل کرنے میں روزمرہ کی رکاوٹیں اور زمانے کی ٹال مٹول  رکاوٹ بنتی رہی،  اس کے علاوہ جو کچھ تھا میں نے اس کے ابواب معین کر دئے تھے اور انہیں فصول میں تقسیم کر دیا تھا اس کے  آخر میں ایک ایسی فصل آئی تھی جو مشتمل تھی ان تمام عمدہ کلام پر جو امیر المومنینؑ سے منقول تھے کلام کثیر مواعظ و حکم و امثال و آداب سے متعلق طویل خطبات کے علاوہ اور بڑے بڑے مکتوبات کے سوا، تو میرے دوستوں کی ایک جماعت نے اس فصل کو بے حد سراہا اور اس کی عجیب و غریب باتوں پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کے کھرے اور خالص ہونے پر حیران ہوتے ہوئے اورانہوں نے مجھ سے اس وقت یہ درخواست کی کہ میں ایک ایسی کتاب تالیف کرو ں جو امیر المومنینؑ کے منتخب کلام کے تمام فنون اور مختلف النوع شاخوں، خطبوں،  مکتوبات ،مواعظ اور اداب کو اپنے دامن  میں سموئے ہوئے ہو،  اس علم کے ساتھ کہ یہ متضمن ہو، بلاغت کی عجیب باتوں فصاحت کی انوکھی خوبیوں، عربی ادب کے جواہرات اور دینی اور دنیاوی کلمات کے روشن پہلوں  پر جو کسی کلام میں یکجا نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کتاب میں موجود ہیں۔‘‘

رشحات قلم: مولانا سید تلمیذ حسنین رضوی