نہج البلاغہ کے بارے میں علماء اور محققین کیا کہتے ہیں؟

۱۔  ابن ابی الحدید کہتے ہیں: نہج البلاغہ کی ایک سطر ابن نباتہ کی ہزار سطروں کے برابر ہے جس کے بارے میں علماء کا خیال ہے کہ وہ اپنے زمانے کا بہترین اور بے مثل خطیب تھا ۔

۲۔ شیخ محمود شکری الالوسی نے کہا ہے :

’’  کتاب نہج البلاغہ امام علیؑ کے خطبوں کی ایک امانت ہے جو کلام خداوندی کے نور سے مقتبس ہے اور ایک ایسا سورج ہے جونطق نبیﷺ کی فصاحت سے روشن ہے۔‘‘

۳۔  شیخ ناصف الیازجی نے کہا ہے:

’’  اگر تم علم و ادب اور انشاء پردازی کی صنعت میں اپنے معاصرین سے سبقت لے جانا چاہتے ہو تو تم پر لازم ہے کہ قرآن اور نہج البلاغہ کے حافظ بن جاؤ۔‘‘

۴۔  ڈاکٹرز کی مبارک نے کہا ہے:

’’ میرا یہ عقیدہ ہے کہ اگر کتاب نہج البلاغہ میں غور و فکر کیا جائے تو اس سے مردانگی، بہادری اور نفس کی عظمت پیدا ہوتی ہے اس لیے کہ ایسے غالب شخص کی جانب سے ہے جس نے شیرانہ عزائم کے ساتھ دشواریوں کا مقابلہ کیا۔‘‘

 عباس محمود عقاد نے نہج البلاغہ کے بارے میں فرمایا:

’’  توحید کی آیتوں اور حکمت الہیہ کا فیضان ہے اس سے درس عقائد کو وسعت ملتی ہے اور الہیات کے اصول اور حکمت توحید سمجھ میں آتی ہے۔‘‘

 محی الدین عبدالحمید نے فرمایا:

’’  نہج البلاغہ وہ کتاب ہے جس کا انتخاب کیا ہے  شریف رضی  ابو الحسن محمد بن الحسین موسوی  نے امیر المومنین علی ابن ابی طالبؑ کے کلام سے اور یہ وہ کتاب ہے جو اپنی دو دفتیوں کے درمیان بلاغت اور علوم کے چشموں کو سموئے ہوئے ہے اور دیکھنے والوں کو اس میں فصاحت کے اسباب مہیا ہیں اور فصاحت کا گلدستہ ان کے قریب ہے اس لئے کہ وہ رسول اللہﷺ کے بعد مخلوقات میں نطق کے اعتبار سے سب سے بڑے فصیح اور حجت و دلیل کے لحاظ سے سب سے زائد ماہر تھے اور لغت و زبان پر ایسی قدرت حاصل تھی کہ جدھر چاہیں اسے موڑ دیں۔ ایسے دانا وفرزانہ جن کے بیان سے حکمت مترشح ہوتی تھی اور ایسے خطیب جن کا بیان کا ساحر دلوں کو گرویدہ کر لیتا تھا، ایسے عالم جنہیں رسول اللہﷺ کی صحبت و خلوت کا شرف حاصل ہوا ہے ، وہ کاتب وحی تھے اور  انہوں نے اپنی تلوار اور زبان سے دین کی حمایت و نصرت کا حق ادا کیا اور بچپن سے یہ شرف ان کے علاوہ کسی اور کے حصے میں نہ آیا۔‘‘

نہج البلاغہ وہ  کتاب ہے جسے الفاظ کے قالب میں ڈھالا ہے اور معنی و مفاہیم کا لباس پہنایا ہے  باب مدینۃ العلم ،سید المواحدین، امام المتقین، امیر المومنین، غالب علی کل غالب، امام علی ابن ابی طالبؑ نے، اس کے بارے میں کہا گیا ہے:

نهج البلاغة نهج العلم و العمل                      فاسلكه يا صاح تبلغ غاية الأمل

’’ نہج البلاغہ علم و عمل ہے لہٰذا اسے نوحہ کرنے والے تم یہ راستہ اپناو  آرزوں کی منتہاء  تک پہنچ جاؤ گے۔‘‘

 لہذا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ دون کلام الخالق و فوق کلام المخلوق ہے۔

كَلَامُ عَلِىٍ كَلَامٌ عَلِىٌ                    وَ مَا قَالَهٗ الْمُرْتَضٰى مُرْتَضٰى

’’علیؑ کا کلام بلند و بالا کلام ہے اور  جو کچھ مرتضی نے کہا وہ یقیناً پسندیدہ اور مرغوب ہے۔‘‘

رشحات قلم: مولانا سید تلمیذ حسنین رضوی