پہلا حصہ: اسناد صحیفہ کاملہ

چوتھے امام علی بن الحسین حضرت زین العابدین علیہ السلام کے دُعاؤں کے مجموعے کو صحیفئہ سجادیہ، صحیفئہ کاملہ، انجیل اہل بیت، زبورِ آلِ محمد اور اُخت القرآن کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ کے بعد یہ تیسرا ذریعہ ہے جس سے کلام معصوم تک رسائی ہو سکتی ہے۔

زمانہ پُر آشوب تھا، حالات ناسازگار تھے، امام زین العابدین کے لیے اپنے خیالات اور معتقدات کے اظہار کا کوئی ذریعہ اور وسیلہ نہ تھا تو امام عالی مقام نے تبلیغ دین اور ترویج شرع متین کے لیے دُعاؤں کو وسیلہ قرار دیا اور اس کے ذریعے تعلیماتِ محمد و آلِ محمد کو عام کیا۔

صحیفہ کاملہ جو 54/ دُعاؤں کا مجموعہ ہے اسے امام زین العابدین علیہ السلام نے اُموی دور میں زبانِ مبارک سے جاری فرمایا ہے اور ان کے دو بیٹوں امام محمد باقر علیہ السلام ( جن کی شہادت سنہ 114 ھ کو ہوئی) اور حضرت زید شہید (جن کی شہادت سنہ 122ھ میں ہوئی) نے اسے حفظ کیا اور امام محمد باقر علیہ السلام نے اسے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو املا کرایا اور یحییٰ ( جن کی شہادت سنہ 125ھ میں ہوئی) اپنے باپ کے نسخے کے وارث ہوئے اور امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانے میں اسے عمر بن ہارون ثقفی بلخی (متوفی 194ھ) کو املا کرایا اور اُن سے دوسرے راویوں نے اسے آگے بڑھایا۔

 اکثریت کے نزدیک دُعاؤں کے اس مجموعے کو صحیفئہ کاملہ کے نام سے موسوم کیا گیا جو بعد میں اس کتاب کی شناخت بن گیا اور یہ تقریباً سنہ 588ھ میں ہوا اور اس سے پہلے اسے (کامل) دُعائے کامل اور دُعائے صحیفہ اور صحیفئہ سجادیہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

 رجال طوسی میں ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے اس مجموعہ دُعا کو ( الکامل ) کہا کرتے تھے۔

 اور نجاشی (متوفی سنہ 450ھ ) اور شیخ طوسی ( متوفی سنہ460ھ ) اور ابن آشر آشوب (متوفی سنہ 588ھ) نے اپنی کتاب معالم العلماء میں اسے ( دُعاء الصحیفہ ) کے نام سے تحریر کیا ہے۔

 ابن شہر آشوب معالم العلماء میں فرماتے ہیں کہ صحیفئہ کاملہ چھٹی کتاب ہے جو اسلام میں زیورِ تحریر سے آراستہ ہوئی اور تصنیف کی گئی سب سے پہلے امیر المؤمنینؑ نے کتاب اللہ جل جلالہ کو جمع کیا پھر سلمان فارسیؓ، پھر ابوذر غفاریؓ پھر اصبغ بن نباتہؓ پھر عبداللہ بن ابی رافعؓ نے کتابیں تحریر کیں اور اس کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کا صحیفہ کاملہ منصئہ شہود پر آیا۔

مجلسی اول (متوفی سنہ1070ھ) اپنے اجازے مؤرخانہ 1064میں تحریر فرماتے ہیں:

“إنّه لا شك فى أنّ الصحيفة الكاملة عن مولانا سيد الساجدين بذاتها و فصاحتها و بلاغتها, و اشتمالها على العلوم الإلهية التي لا يمكن لغير المعصوم الإتيان بها, والحمدللّه رب العالمين على هذه النعمة الجليلة العظيمة التى اختصت بنا معشر الشيعة۔”

“اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیفئہ کاملہ جو براہِ راست امام سیّد الساجدین علیہ السلام سے مروی ہے اس کی فصاحت، اس کی بلاغت اور علوم الٰہیہ پر اس کا مشتمل ہونا دلالت ہے کہ غیر معصوم کے لیے اس جیسا کلام پیش کرنا ممکن نہیں ہے اور اللہ رب العالمین کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے اس نعمت جلیلہ اور عظیمہ سے ہم شیعوں کو مخصوص کر لیا ہے۔”

 سیّد امین فرماتے ہیں، اس کے الفاظ کی بلاغت اور فصاحت جس کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی اور مضامین کی بلندی اور اللہ کے سامنے تضرع و زاری اور اس کی حمد و ثنا اور طلب عفو و کرم کا عجیب اسلوب اور اس سے توسل شاہد عادل ہے کہ اس کتاب کی نسبت امام سے درست ہے۔ یہ دُعائیں اس بحرز خار کے دُرہائے نایاب ہیں اور یہ سب اسی کان کے موتی اور جواہر ہیں اور یہ اسی درخت کے ثمر ہیں۔ ثقہ افراد نے اپنی متصل اسناد سے امام زین العابدین علیہ السلام سے ان دُعاؤں کی روایت کی ہے۔

 سیّد بروجردی البدرالزاھر میں فرماتے ہیں:

“صحیفہ کی نسبت امام زین العابدین علیہ السلام کی طرف بدیہیات میں سے ہے اور یہ آل محمد کا زبور ہے جس کی شہادت اس کا اسلوب اور نظم، اور اس کے مضامین دے رہے ہیں ان دُعاؤں سے معجزانہ آثار کا ظہور ہے۔”

آقائے بزرگ طہرانی نے اپنی کتاب الذريعة الي تصانيف الشيعة جلد 15 میں صفحہ 18 سے 21 تک صحیفہ سجادیہ کے مختلف چھ نسخوں کا ذکر کیا ہے:  

1۔  الصحيفة السجادية الاولٰى۔  جس کی سند امام زین العابدین علیہ السلام تک منتہی ہوتی ہے جسے اُخت القرآن، انجیل اہل بیتؑ اور زبورِ آل محمدؑ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسے صحیفئہ کاملہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اصحاب نے اس کی روایت کا اہتمام کیا ہے اور اپنے اجازات میں اسے مخصوص طریقے سے ذکر کیا ہے۔ نسخہ اوّل کی سند یہ ہے:

حدثنا الشيخ أبو علي بن الشيخ في جمادى الآخرة 511 عن والده شيخ الطائفة الطوسي عن ابن الغضائري قال حدثنا أبو المفضل محمد بن عبيد الله بن المطلب۔

اور صحیفئہ کاملہ کا نسخہ شہید ثانی کے خط میں (فاضلیہ) میں موجود ہے اور وہ شیخ زین الدین بن علی المشہور بابن الحجة ( متوفی سنہ 966ھ) ہیں اور صحیفہ کا نسخہ شہید اول کے خط میں سید محمد تقی بن الحسین کے کتب خانہ میں موجود تھا۔  

2۔ الصحيفة السجادية الثانية۔  جسے شیخ محدث حر عاملی صاحب وسائل محمد بن الحسن متوفی سنہ 1104ھ نے جمع کیا تھا اور اس نسخہ میں صحیفہ سجادیہ جتنی دُعاؤں کا اضافہ کیا تھا جس کا نام اُخت الصحیفة رکھا تھا وہ آخر میں فرماتے ہیں:

يقول العبد محمد بن الحسن بن علي بن محمد الحر العاملي عفا الله عنه: هذا ما وصل إلى من أدعية مولانا زين العابدين علي بن الحسين (ع) مما خرج عن الصحيفة الكاملة..] إلى قوله: [وفرغت من جمعها في شهر رمضان 1053ھج۔

آغاز میں یہ الفاظ ہیں:  

“اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الْمُجِیْبِ لِمَنْ دَعَاہُ الْقَرِیْبُ لِمَنْ نَاجَاہُ۔”

3۔ الصحيفة السجادية الثالثة  از فاضل متبحر ماہر میرزا عبداللہ بن مرزا عیسی بن محمد صالح تبریزی اصفہانی المعروف بآفندی صاحب ریاض العلماء تلمیذ مجلسی ثانی الدرر المنظومة المأثورةکے نام سے ہے ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تمام دُعاؤں کو اس میں جمع کر دیا ہے۔

4۔ الصحيفة السجادية الرابعة۔  ہمارے شیخ نوری الحاج میرزا حسین بن محمد تقی بن میرزا علی محمد النوری متوفی 27/ جمادی الاخرة سنہ 1320 ھ انہوں نے 77/ وہ دعائیں جمع کی ہیں جو دیگر صحیفوں میں نہیں ہیں آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:

“اَ لْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ جَعَلَ الـدُّعَآءَ سَھْمًا”

5: الصحيفة السجادية الخامسة۔ محسن بن عبد الکریم بن علی بن محمد امین الحسینی العاملی نزیل دمشق اس صحیفہ میں دُعاؤں کی تعداد 182/ ہے۔

6۔ الصحيفة السجادية السادسة. شیخ محمد صالح میرزا فضل اللہ مازندرانی الحائری متولد سنہ1297ھ

 متداول صحیفہ سجادیہ میں 54/ دُعائیں ہیں جن کے عنوانات یہ ہیں:

1۔خداوند عالم کی حمد و ستائش، 2۔ رسول اکرمؐ پر درود و سلام، 3۔ حاملانِ عرش اور مقرب فرشتوں پر دُرود،4۔ انبیاء پر ایمان لانے والوں کے حق میں دُعا، 5۔ اپنے اور اپنے خاص دوستوں کے لیے دُعا، 6۔ صبح و شام کی دُعا، 7۔ مشکلات کے وقت کی دُعا، 8۔ پناہ طلب کرنے کے سلسلے کی دُعا، 9۔ طلبِ مغفرت کی دُعا، 10۔ اللہ تعالیٰ سے پناہ لینے کی دُعا، 11۔ انجام بخیر ہونے کی دُعا، 12۔ اعترافِ گناہ اور طلبِ توبہ کی دُعا، 13۔ اللہ تعالیٰ سے حاجتیں طلب کرنے کی دُعا، 14۔ جب آپ پر کوئی زیادتی ہوتی یا ظالموں سے کوئی ناگوار بات دیکھتے تو یہ دُعا پڑھتے، 15۔ جب کسی بیماری یا کرب و اذیت میں مبتلا ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے، 16۔ جب گناہوں سے معافی چاہتے یا اپنے عیبوں سے درگزر کی التجا کرتے تو یہ دُعا پڑھتے، 17۔ جب شیطان کا ذکر آتا تو اس سے اور اس کے مکرو عداوت سے بچنے کے لیے یہ دُعا پڑھتے، 18۔ جب کوئی مصیبت برطرفی ہوتی یا کوئی حاجت پوری ہوتی تو یہ دُعا پڑھتے، 19۔ قحط سالی کے موقع پر طلب باراں کی دُعا، 20۔ پسندیدہ اخلاق اور شائستہ کردار کے سلسلہ میں حضرت کی دعا، 21 ۔ جب کسی بات پر غمگین ہوتے تو یہ دعا پڑھتے، 22۔ شدت و سختی کے وقت کی یہ دعا، 23۔ طلب عافیت کی دُعا، 24۔ والدین کے حق میں دُعا، 25۔ دوستوں اور ہمسایوں کے حق میں دُعا، 27۔ حدود مملکت کی حفاظت کرنے والے کے لیے دُعا، 28۔ اللّٰہ تعالیٰ سے تضرع و زاری کے سلسلے میں دُعا، 29۔ تنگی رزق کے موقع پر پرھنے کی دُعا، 30۔ ادائے قرض کی دُعا، 31۔ دُعائے توبہ، 32۔ نمازِ شب کے بعد کی دُعا، 33۔ دُعائے استخارہ، 34۔ گناہوں کی رسوائی سے بچنے کی دُعا، 35۔ رضائے الہٰی پر خوش رہنے کی دُعا، 36۔ بجلی کے کوندنے اور رعد کے گرجنے کے وقت کی دُعا، 37۔ شکر کے سلسلے میں دُعا، 38۔ عذر و طلب مغفرت کے سلسلے میں دُعا، 39۔ طلبِ عفو و رحمت کی دُعا، 40۔ موت کو یاد کرنے کے وقت کی دُعا، 41۔ پردہ پوشی اور نگہداشت کی دُعا، 42۔ دُعائے ختم قرآن، 43۔ دُعائے رویتِ ہلال، 44۔ استقبالِ ماہِ رمضان کی دُعا، 45۔ وداع ماہ ِرمضان کی دُعا، 46۔ عیدین اور جمعہ کی دُعا ، 47۔ روز عرفہ کی دُعا، 48۔ عید قربان اور جمعہ کی دُعا، 49. دشمن کے مکر و فریب سے بچنے کی دُعا، 50۔ خوف الہٰی کے سلسلے کی دُعا، 51۔ تضرع و زاری کے سلسلے میں دُعا، 52۔ الحاج و زاری کے سلسلے میں دُعا، 53۔ عجز و فروتنی کے سلسلے میں دُعا، 54۔ رنج و اندوہ کے دور ہونے کی دُعا۔

مولانا سید تلمیذ حسنین رضوی