علامہ فیض الاسلام سید علی نقی اصفہانی متوفی1405 ہجری اس صدی کے وہ عالم اور مصنف ہیں  جنہوں نے کلامِ امیر المومنین ؑ نہج البلاغہ کو زندہ و اجاگر کیا ہے۔ آپ کا نسب امیر المومنین علیہ السلام سے ملتا ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم و تقویٰ کے حصول میں گزاری۔ آپ نے قرآن مجید، نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ کا فارسی میں ترجمہ کیا ۔سید فیض الاسلام کا ترجمہ نہج البلاغہ ہزاروں کتابخانوں اور لاکھوں مومن و عاشقِ ولایت لوگوں کے گھروں کی زینت ہے ۔ان کے والد گرامی علامہ سید محمد، اصفہان کے ایک مشہور عالم تھے انہوں نے بھی قلمی وکلامی طور پر دین کی تبلیغ کی ۔

فیض الاسلام کو سید ابو الحسن اصفہانی، آقاضیا الدین عراقی، شیخ علی اکبرنہاوندی، اور صاحب مفاتیح الجنان شیخ عباس قمی جیسے اساتذہ میسرآئے۔ آپ کی شہرت کا سبب نہج البلاغہ کا ترجمہ و حاشیہ ہے جو آپ نے 1370ہجری  میں تہران میں مکمل کیا۔

اِس وقت فیض الاسلام کا نام نہج البلاغہ سے یُوں جُڑا ہوا ہے کہ فارسی کا ترجمہ نہج البلاغہ،نہج البلاغہ فیض الاسلام کے نام سے مشہور ہے ۔تاریخ میں یہ سعادت آپ ہی کے نام سے منسوب ہے اور لاکھوں کی تعداد میں یہ ترجمہ نہج البلاغہ شایع ہو چکا ہے۔ نہج البلاغہ کے ترجمہ کو آپ نے چھ اجزاءمیں شایع کرایا ۔ترجمہ کے بارے میں آپ لکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کئی سالوں  سےزیر مطالعہ تھا اور روز بروز اس کے پڑھنے اور غور کرنے کا شوق بڑھ رہا تھا اور صورت حال یہ ہو گئی تھی گویا مجھے کتاب نہج البلاغہ کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کے فرمائشات کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا ۔جب بھی علماء و فضلاء سے ملاقات ہوتی تو کسی قسم کی بات سے پہلے ان سے نہج البلاغہ کی عظمت و اہمیت کی بات کرتا اور سید رضی کے اس شاہکار کی اُنہیں یاد دہانی کراتا ۔بعض مذہبی مجالس میں نہج البلاغہ کو پڑھتا اور ان کے معنی بیان کرتا تھا۔سامعین اشتیاق سے کہتے کہ اگر علماء نے فارسی میں نہج البلاغہ کا عام فہم ترجمہ کیا ہوتا تو سب اس سے مستفید ہوتے ۔ اس لئے میرے لیے لازم ہو گیا کہ ہر کام کو چھوڑ کر اس عظیم کتاب کا سلیس فارسی زبان میں ترجمہ کروں۔