راز داری

صَدْرُ اَلْعَاقِلِ صُنْدُوقُ سِرِّهِ ( حکمت ۶)

ترجمہ: عقلمند کا سینہ اُس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے۔

 اس فرمان میں رازداری کو امامؑ نے انسان کے عقل مند ہونے کی نشانی قراردیا ہے۔ خود رازداری کی اہمیت بھی اس فرمان سے واضح ہوتی ہے۔

ایک اور مقام پر امامؑ ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ كَتَمَ سِرَّهُ كَانَتِ الْخِيَرَةُ بِيَدِهِ . (حکمت۱۶۲)

ترجمہ: جو اپنے راز کو پوشیدہ رکھے گا اس کا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔

راز سے مراد وہ امور ہیں کہ اگر دوسرے اس سے آگاہ ہو جائے تو اِس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور بعض ایسے راز ہوتے ہیں جو لوگ اسی کے خلاف انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔امام حسن مجتبیٰ ؑ کو وصیت میں بھی مولا علیؑ نے فرمایا کہ انسان کو اپنے رازوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے اور خاص کر جوانوں میں یہ چیز عام ہے کہ وہ اپنے قریب ترین دوستوں کو اپنے سب راز بتا دیتے ہیں اور صمیمی دوستی سمجھی ہی وہی جاتی ہے جہاں کوئی راز راز نہ رہے اور یہ دوستیاں دشمنیوں میں بھی بدل جاتی ہیں اور وہ راز جب سامنے آنا شروع ہوتے ہیں تو خود کشیوں تک نوبتیں پہنچ جاتی ہیں۔اس لئے امام ؑ نے فرمایا اس کی حفاظت کرو اس لئے کہ آج کا دوست کل دشمن بھی بن سکتا ہے اور دوست کے اور دوست بھی ہوتے ہیں وہ آپ کے راز انہیں بھی بتا سکتا ہے۔