سیرت النبیؐ

وَ لَقَدْ كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهِ(صلى الله عليه وآله) كَافٍ لَكَ فِي الْأُسْوَةِ (خطبہ:۱۵۸)

ترجمہ: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول و عمل پیروی کے لیے کافی ہے۔

نہج البلاغہ میں امیر المؤمنینؑ نے نبی کی زندگی کے مختلف پہلو بیان فرمائے ۔سب سے زیادہ آپؐ کے سببِ بعثت کو بیان فرمایا اور اسے اللہ سبحانہ کی نعمت و رحمت کے عنوان سے یاد کیا۔مقصد بعثت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’اللہ سبحانہ نے محمد ؐ کو حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اُس کے بندوں کو محکم و واضح قرآن کے ذریعہ سے بتوں کی پرستش سے خدا کی عبادت کی طرف،اور شیطان کی اطاعت سے خدا کی اطاعت کی طرف نکال لے جائیں(خطبہ:۱۴۵)

اس خطبہ میں امامؑ نے جناب موسیٰ کلیم اللہ ؑکا بیان،جناب داودؑ کا تذکرہ اور جنابِ عیسیٰؑ کی یاد کے بعد تفصیل سے نبی اکرمؐ کی سیرت پر روشنی ڈالی۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:

’’تم اپنے پاک و پاکیزہ نبیؐ کی پیروی کرو چونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والے کے لیے نمونہ اور صبر کرنے والے کے لیے ڈھارس ہے،ان کی پیروی کرنے والا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔اگر ہم میں صرف یہی ایک چیز ہو کہ ہم اُس شے کو چاہنے لگیں جسے اللہ اوراس کا رسولؐ برا سمجھتے ہیں اور اس چیز کو بڑا سمجھنے لگیں جسے وہ حقیر سمجھتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سرتابی کے لیے یہی بہت ہے۔پیروی کرنے والے کو چاہیئے کہ آپؐ کی پیروی کرے اور ان کے نشانِ قدم پر چلے اور انہی کی منزل میں آئے ورنہ ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔یہ اللہ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک پیشرو و پیشوا جیسی نعمتِ عظمیٰ بخشی کہ جن کی ہم پیروی کرتے ہیں اور ان کے قدم بقدم چلتے ہیں‘‘(خطبہ:۱۵۸)

نبی اکرم ؐکی سیرت کی پیروی کا حکم دیتے ہوئے مولا علیؑ صدا دے کر فرماتے ہیں، سنو مجھ علیؑ کی سنو:

پیغمبر ؐ کے وہ اصحاب جو احکامِ شریعت کے امین ٹھہرائے گئے تھے اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میں نے کبھی ایک آن کے لئے بھی اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام سے سرتابی نہیں کی اور میں نے اس جوانمردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے،پیغمبر کی دل و جان سے ان موقعوں پر مدد کی جن موقعوں سے بہادر جی چرا کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم آگے کے بجائے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔(خطبہ:۱۹۵)

امیر المؤمنینؑ اپنے چاہنے والوں سے یہی چاہتے ہیں کہ آپ بھی یونہی نبی ؐکی سیرت کی پیروی کرو یعنی جس طرح میں اتباع کرتا ہوں۔