علاج روح

إِنَّ هَذِهِ اَلْقُلُوبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ اَلْأَبْدَانُ فَابْتَغُوا لَهَا طَرَائِفَ اَلْحِكْمَةِ (حکمت ۱۹۷)

ترجمہ: یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو۔

بدن کی طرح روحِ انسان بھی ملول و پریشان ہوتی ہے اور جس طرح جسم کے سکون کے لئے اسے راحت و سکون کی ضرورت ہوتی ہے روح کی افسردگی اور تھکاوٹ کو دور کرنے کی بدن سے بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔قلب و روح اگر پریشان ہیں تو بدن بھی ساتھ نہیں دے گا۔ طبیعت کے خوبصورت مناظر ،باغ و بہار کی سیر،بلبل و طوطی کی صدائیں،دوستوں اور پیاروں کی محفلیں اورگفتگو یہ سب دل کی تسکین کا ذریعہ شمار کئے جاتے ہیں۔

امامؑ نے روح کی خوشی ومسرت کا ذریعہ لطیف حکیمانہ نکات کو قرار دیا۔ کیسے حکیمانہ نکات!؟رب نے جناب لقمان کی اپنے بیٹے سے باتوں کو قرآن کا حصہ بنایا اور یہی باتیں جنابِ لقمان کےحکیم ہونے کی شہرت کا سبب بن گئیں۔قرآن کی ایک ایک آیت حکمت کا سمندر ہے،اسی لئے شاید حکم ہوا کہ اللہ کا ذکر بجا لاؤ دل مطمئن ہو گا۔

قرآن کی حکمت بھری باتوں پر عمل کر لیا جائے تو سکون ِ روح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔رب قرآن میں ایثار و قربانی کا حکم دیتا ہے۔ایثار یعنی دوسروں کی خاطر خود کو تکلیف میں ڈالنا اور یہ ایثار جو سکون مہیا کرتا ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ سورہ دہر میں روٹیاں دے کر جو سکون اہلبیت کو ملا ہمیشہ اسے اپنی فضیلت کے طور پر بیان فرماتے رہے۔حکمِ لطیفہ وہی ہیں جو ایسے نتائج مہیا کرتے ہیں اور نہج البلاغہ ان حکمتوں کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔