اُسے اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہے۔ وہ غفلت شعاروں کے ساتھ (تباہیوں میں) گرتا ہے۔ بغیر سیدھی راہ اختیار کئے اور بغیر کسی ہادی و رہبر کے ساتھ دیئے صبح سویرے ہی گنہگاروں کے ساتھ ہو لیتا ہے۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے : آخر کار جب اللہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ان کے سامنے لائے گا اور غفلت کے پردوں سے انہیں نکال باہر کرے گا تو پھر اس چیز کی طرف بڑھیں گے جسے پیٹھ دکھاتے تھے اور اس شے سے پیٹھ پھرائیں گے جس کی طرف ان کا رخ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے مطلوبہ سروسامان کو پاکر اور خواہشوں کو پورا کرکے کچھ بھی تو فائدہ حاصل نہ کیا۔ میں تمہیں اور خود اپنے کو اس مرحلہ سے متنبہ کرتا ہوں۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے فائدہ اٹھائے اس لیے کہ آنکھوں والاوہ ہے جو سنے تو غور کرے اور نظر اٹھائے تو حقیقتوں کو دیکھ لے اور عبرتوں سے فائدہ اٹھائے پھر واضح راستہ اختیار کرے جس کے بعد گڑھوںمیں گرنے اور شبہات میں بھَٹک جانے سے بچتا رہے اور حق سے بے راہ ہونے اور بات میں رد و بدل کرنے اور سچائی میں خوف کھانے سے گمراہوں کی مدد کرکے زیان کار نہ بنے۔

 اے سننے والو! اپنی سرمستیوں سے ہوش میں آؤ۔ غفلت سے آنکھیں کھولو۔ اس دنیا کی دوڑ دھوپ کو کم کرو اور جو باتیں نبی ا می ﷺکی زبانِ(مبارک) سے پہنچی ہیں۔ ان میں اچھی طرح غور و فکر کرو کہ ان سے نہ کوئی چارہ ہے اور نہ کوئی گریز کی راہ۔ جو ان کی خلاف ورزی کرے تم اُس سے دوسری طرف رُخ پھیر لو اور اسے چھوڑو کہ وہ اپنے نفس کی مرضی پر چلتا رہے۔ فخر کے پاس نہ جاؤ اور بڑائی (کے سر) کو نیچا کرو،اپنی قبر کو یاد رکھو کہ تمہارا راستہ وہی ہے اور جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے۔ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے ۔جو آج آگے بھیجو گے وہی کل پا لو گے، آگے کے لئے کچھ تہیہ کرو اور اس دن کیلئے سروسامان تیار رکھو۔

اے سننے والو! ڈرو ڈرو،اور اے غفلت کرنے والو! کوشش کرو کوشش کرو۔ تمہیں خبر رکھنے والاجو بتائے گا وہ دوسرا نہیں بتا سکتا۔ قرآن حکیم میں اللہ کے ان اٹل اصول میں سے کہ جن پر وہ جزا و سزا دیتا ہے اور راضی و ناراض ہوتا ہےیہ چیز ہے کہ کسی بندے کو چاہے وہ جو کچھ جتن کر ڈالے دنیا سے نکل کر اللہ کی بارگاہ میں جانا ذرا فائدہ نہیں پہنچا سکتا جبکہ وہ ان خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت سے توبہ کئے بغیر مر جائے۔ ایک یہ کہ فرائضِ عبادت میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا ہویا کسی کو ہلاک کرکے اپنے غضب کو ٹھنڈا کیا ہو یا دوسرے کے کئے پر عیب لگایا ہویا دین میں بدعتیں ڈال کر لوگوں سے اپنا مقصد پورا کیا ہویا لوگوں سے دوزخی چال چلتا ہویا دو زبانوں سے لوگوں سے گفتگو کرتا ہو۔ اس بات کو سمجھو اس لئے کہ ایک نظیر دوسری نظیر کی دلیل ہوا کرتی ہے۔

بلاشبہ چوپاؤں کا مقصد پیٹ (بھرنا) اور درندوں کا مقصد دوسروں پر حملہ آور ہونا اور عورتوں کا مقصد اس پست دنیا کو بنانا سنوارنا اور فتنے اٹھانا ہی ہوتا ہے۔ مومن وہ ہیں جو تکبر و غرور سے دور ہوں۔ مومن وہ ہیں جو خائف و ترسان ہوں۔مومن وہ ہیں جو ہراساں ہو۔