اللہ تعالیٰ نے ایسی ہدایت کرنے والی کتاب نازل فرمائی ہے کہ جس میں اچھائیوں اور برائیوں کو (کھول کر ) بیان کیا ہے ۔ تم بھلائی کا راستہ اختیار کرو تاکہ ہدایت پا سکو اور برائی کی جانب سے رخ موڑ لو تاکہ سیدھی راہ پر چل سکو، فرائض کو پیشِ نظر رکھو اور انہیں اللہ کے لئے بجا لاؤ، تاکہ یہ تمہیں جنت تک پہنچائیں۔ اللہ سبحانہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے جو انجانی نہیں ہیں اور ان چیزوں کو حلال کیا ہے جن میں کوئی عیب و نقص نہیں پایا جاتا ۔ اُس نے مسلمانوں کی عزت و حرمت کو تمام حرمتوں پر فضیلت دی ہے اور مسلمانوں کے حقوق کو ان کے موقع و محل پر اخلاص و توحید کے دامن سے باندھ دیا ہے ۔ چنانچہ مسلمان وہی ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں۔ مگر یہ کہ کسی حق کی بناء پر اُن پر ہاتھ ڈالاجائے اور ان کو ایذا پہنچانا جائز نہیں، مگر جہاں واجب ہو جائے ۔

اُس چیز کی طرف بڑھو کہ جو ہمہ گیر اور تم میں سے ہر ایک کے لیے مخصوس ہے اور وہ موت ہے ۔ چونکہ (گزر جانے والے) لوگ تمہارے سامنے ہیں اور (موت کی) گھڑی تمہیں پیچھے سے آگے کی طرف ہنکائے لیے جارہی ہے ۔ہلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھ جانے والوں کو پاسکو۔ تمہارے اگلوں کو پچھلوں کا انتظار کرایا جارہا ہے ۔ اللہ سے اس کے بندوں اور اس کے شہروں کے بارے میں ڈرتے رہو۔ اس لیے کہ تم سے (ہر چیز کے متعلق) سوال کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ زمینوں اور چوپاؤں کے متعلق بھی اللہ کی اطاعت کرو، اس سے سرتابی نہ کرو۔ جب بھلائی کو دیکھو تو اسے حاصل کرو اور جب بُرائی کو دیکھو تو اس سے منہ پھیر لو۔