جب مدینہ میں آپ کی بیعت ہوئی تو فرمایا:

میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں، جس شخص کو اس کے دیدۂ عبرت نے گذشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں،اسے تقویٰ شبہات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔تمہیں جاننا چاہیے کہ تمہارے لیے وہی ابتلا آت پھر پلٹ آئے ہیںجو رسول کی بعثت کے وقت تھے۔ اس ذات کی قسم جس نے رسول کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا تم بری طرح تہ و بالا کیے جاؤ گے اور اس طرح چھانٹے جاؤ گے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کئے جاؤ گے جس طرح (چمچے سے ہنڈیا) یہاں تک کہ تمہارے ادنےٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ ہو جائیں گے جو پیچھے تھے آگے بڑھ جائیں گےاور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے و ہ پیچھے چلے جائیں گے۔

 خدا کی قسم میں نے کوئی بات پرد ے میں نہیں رکھی، نہ کبھی کذب بیانی سے کام لیا۔ مجھے اس مقام اور اس دن کی پہلے ہی سے خبر دی جاچکی ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ گناہ اس سرکش گھوڑوں کے مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو سوار کر دیا گیا ہو اور باگیں بھی ان کی اتار دی گئی ہوں اور وہ لے جا کر انہیں دوزخ میں پھاند پڑیں اور تقویٰ رام کی ہوئی سواریوں کے مانند ہے جن پران کے سواروں کو سوار کیا گیا ہو، اس طرح کہ باگیں ان کے ہاتھ میں دےدی گئی ہوں اور وہ انہیں (باطمینان) لے جا کر جنت میں اتار دیں۔ ایک حق ہوتا ہے اور ایک باطل اور کچھ حق والے ہوتے ہیں، کچھ باطل والے، اب اگر باطل زیادہ ہو گیا تو یہ پہلے بھی بہت ہوتا رہا ہے اور اگر حق کم ہو گیا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد باطل پر چھا جائے، اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی چیز پیچھے ہٹ کر آگے بڑھے۔

علامہ رضی فرماتے ہیں کہ اس مختصر سے کلام میں واقعی خوبیوں کے اتنے مقام ہیں کہ احساس خوبی کا اس کے تمام گوشوں کو پا نہیں سکتا اور اس کلام سے حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے زیادہ ہوتا ہے،اس حالت کے باوجود جو ہم نے بیان کی ہے اس میں فصا حت کے اتنے بے شمار پہلو ہیں کہ جن کے کرنے کا یارا نہیں ،نہ کوئی انسان اس کی عمیق گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے،میری اس بات کو وہی جان سکتا ہے جس نے اس فن کاپورا پورا حق ادا کیا ہواور اس کے رگ و ریشہ سے واقف ہو اور جاننے والوں کے سوا کوئی ان کو نہیں سمجھ سکتا۔

اسی خطبے کا ایک حصہ یہ ہے۔

جس کے پیشِ نظر دوزخ و جنت ہواس کی نظر کسی اور طرف نہیں اٹھ سکتی، جو تیز قدم دوڑنے والا ہے، وہ نجات یا فتہ ہےاور جو طلب گارہو، مگر سست رفتار اُسے بھی توقع ہو سکتی ہے۔ مگر جو (ارادتا) کو تاہی کرنے والاہو ،اُسے تو دوزخ ہی میں گرنا ہے۔دائیں بائیں گمراہی کی راہیں ہیں اور درمیانی راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے،اس راستے پر اللہ کی ہمیشہ رہنے والی کتاب اور نبوت کے آثار ہیں۔ اسی سے شریعت کا نفاذ و اجراء ہوا اور اسی کی طرف) آخر کار بازگشت ہے جس نے (غلط) ادعا کیا وہ تباہ و برباد ہوا اور جس نے افتراء باندھا وہ ناکام و نامراد رہا ،جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے تباہ ہو جاتا ہے اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ وہ اپنی قدرو منزلت کو نہ پہچانے۔ وہ اصل و اساس جو تقویٰ پر ہوبرباد نہیں ہوتی ، اور اس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کشت (عمل) بے آب و خشک نہیں رہتی۔ تم اپنے گھر کے گوشوں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ آپس کے جھگڑوں کی اصلاح کرو، توبہ تمہارے عقب میں ہے۔ حمد کرنے والاصرف اپنے پروردگارکی حمد کرے اور بھلا برا کہنے والااپنے ہی نفس کی ملامت کرے۔