فتاویٰ میں علماء کے مختلف الآراء ہونے کی مذمت میں فرمایا :

جب ان میں سے کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کے لئے پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ہے پھر وہی مسئلہ بعینہٖ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ اس پہلے کے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنا رکھا ہے تو وہ سب کی رایوں کو صحیح قرار دیتا ہے حالانکہ ان کا اللہ ایک ، نبی ایک اور کتاب ایک ہے ۔(انہیں غور تو کرنا چاہیئے ) کیا اللہ نے انہیں اختلاف کاحکم دیا تھا اور یہ اختلاف کر کے اس کے حکم بجا لاتے ہیں یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع کیا ہے اور یہ اختلاف کر کے عمداً اس کی نا فرمانی کرنا چاہتے ہیں ۔

یا یہ کہ اللہ نے دین کو ادھورا چھوڑا دیا تھا اورا ن سے تکمیل کے لئے ہاتھ بٹانے کا خواہشمند ہوا تھا ،یا یہ کہ اللہ کے شریک تھے کہ انہیں اس کے احکام میں دخل دینے کا حق ہواور اس پر لازم ہو کہ وہ اس پر رضا مند رہے ،یا یہ کہ اللہ نے تو دین کو مکمل اتارا تھا مگر اس کے رسول نے اس کے پہنچانے اور ادا کرنے میں کوتاہی کی تھی۔

اللہ نے قرآن میں تو یہ فرمایا ہے کہ ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور اس میں ہر چیز کا واضح بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ قرآن کے بعض حصے بعض حصوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں، چنانچہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا بھیجا ہوا ہوتا ، تو تم اس میں کافی اختلاف پاتے اور یہ کہ اس کا ظاہر خوش نما اور باطن گہرا ہے ،نہ اس کے عجائبات مٹنے والے اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں، ظلمت (جہالت ) کا پردہ اسی سے چاک کیا جاتا ہے ۔