امیر الموٴمنین علیہ السلام منبرِ کوفہ پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اشعت ابنِ قیس نے آپ کے کلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یا امیر الموٴمنین یہ بات تو آپ کے حق میں نہیں بلکہ آپ کے خلاف پڑتی ہے ،تو حضرت نے اسے نگاہ ِغضب سے دیکھا اور فرمایا:

تجھے کیا معلوم کہ کون سی چیز میرے حق میں ہے اور کون سی چیز میرے خلاف جاتی ہے، تجھ پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ،تو جو لاہے کا بیٹا جو لاہا اور کافر کی گود میں پلنے والامنافق ہے ،تو ایک دفعہ کافروں کے ہاتھو ں میں اور ایک دفعہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں اسیر ہوا۔ لیکن تجھ کو تیرا مال اور حسب اس عار سے نہ بچا سکا اور جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے اور اس کی طرف موت کو دعوت اور ہلاکت کا بلاوا دے، وہ اسی قابل ہے کہ قریبی اس سے نفرت کریں اور دور والے بھی اس پر بھروسہ نہ کریں۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ایک دفعہ کفر کے زمانہ میں اور ایک دفعہ اسلام کے زمانہ میں اسیر کیا گیا تھا۔ رہا حضرت کا یہ ارشاد کہ جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے، تو اس سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اشعث کو خالد ابنِ ولید کے مقابلہ میں یمامہ میں پیش آیا تھا کہ جہاں اس نے اپنی قوم کو فریب دیا تھا اور ان سے چال چلی تھی یہاں تک کہ خالد نے ان پر حملہ کر دیا اور اس واقعہ کے بعد اس کی قوم والوں نے اس کا لقب عرف النار رکھ دیا اور یہ ان کے محاورہ میں غدار کے لئے بولاجاتا ہے ۔