آیہ ’’رجال لاتلہیہم تجارةولابیع عن ذکر اللہ ‘‘۔ وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں تجا رت اور خرید و فروخت ذکر الہی سے غافل نہیں بناتی،کی تلاوت کے بعد فرمایا:
بیشک اللہ سبحانہ نے اپنی یا د کو دلوں کی صیقل قرا ردیا ہے جس کے باعث وہ (اوا مرو نوا ہی سے)بہرا ہونے کے بعد سننے لگے اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگے اور دشمنی و عناد کے بعد فرمانبردار ہو گئے یکے بعد دیگرے ہر عہد اور انبیاء سے خالی دور میں حضرت رب ّالعزّت کے کچھ مخصوص بندے ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ جن کی فکر وں میں سر گوشیوں کی صورت میں(حقائق و معارف کا) القا ء کرتا ہے اور ا ن کی عقلوں سے الہامی آوازوں کے ساتھ کلام کرتا ہے چنانچہ انہوں نے اپنی آنکھوں،کانوں اور دلوں میں بیداری کے نور سے (ہدایت و بصیرت کے)چراغ روشن کئے ۔وہ مخصوص یاد رکھنے( کے قابل )دنوں کی یاد دلاتے ہیںاور اس کی جلالت و بزرگی سے ڈراتے ہیں ۔
وہ لق و د ق صحراؤں میں دلیل راہ ہیں۔جو میانہ روی اختیار کرتا ہے ا س کے طور طریقے پر تحسین و آفرین کرتے ہیں او ر اسے نجات کی خوشخبری سناتے ہیں اور جو (افراط و تفریط کی)دائیں بائیں سمتوں پر ہو لیتا ہے، اس کے رویہ کی مذمت کرتے ہیں اور اسے تباہی و ہلاکت سے خوف دلاتے ہیں ۔انہی خصوصیتوں کے ساتھ یہ اُن اند ھیاریوں کے چراغ اور اُن کے شبہوں کے لئے راہنما ہیں ۔
کچھ اہل ذکر ہوتے ہیں جنہوں نے یا د الہی کو دنیا کے بدلے میںلے لیا ۔انہیں نہ تجارت اس سے غافل رکھتی ہے نہ خرید و فروخت۔ اسی کے ساتھ زندگی کے دن بسر کرتے ہیں اور محرمات الہیہ سے متنبہ کرنے والی آوازوں کے ساتھ غفلت شعاروں کے کا نوں میں پکارتے ہیں ۔عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں ۔برائیوں سے روکتے ہیں اور خود بھی اُس سے با زرہتے ہیں ۔گویا کہ انہوں نے دنیا میں ہوتے ہوئے آخرت تک منزل کو طے کر لیا اور جو کچھ دنیا کے عقب میں ہے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور گویا کہ وہ اہل برزخ کے ان چھپے ہوئے حالات پر جو ان کے طویل عرصہ قیام میں انہیں پیش آئے ،آگاہ ہوچکے ہیں او ر گویا کہ قیامت نے ان کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کر دیا او ر انہوں نے اہل دنیا کے سامنے ان چیزوں پر سے پردہ الٹ دیا یہاں تک کہ گویا وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جسے دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے اور وہ سب کچھ سن رہے ہیں جسے دوسرے نہیں سن سکتے
اگر تم ان کی پاکیزہ جگہو ں اور پسندیدہ محفلوں میں ان کی تصویر اپنے ذہن میں کھینچو جبکہ وہ اپنے اعمال ناموں کو کھولے ہوں او ر اپنے نفسوں سے ہر چھوٹے بڑے کام کا محاسبہ کرنے پر آمادہ ہوں ۔ایسے کام کو جن پر وہ مامور تھے اور انہوں نے کو تاہی کی یا ایسے جن سے انہیں روکا گیا تھا ،اور ان سے تقصیر ہوئی اور ہمیشہ اپنی پشتوں کو اپنے گنا ہوں سے گرانبار محسوس کرتے رہے ہوں کہ جن کے اٹھانے سے وہ اپنے کو عاجز و درماندہ پاتے ہوں، اس لئے روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئی ہوں او ر بلک بلک کر روتے ہوئے ایک دوسرے کو جواب دے رہے ہوں ۔اور ندامت و اعترا فِ گناہ کی منزل پر کھڑے ہو ئے اللہ سے چیخ چیخ کر فریاد کر رہے ہوں،تو اس صورت میں تمہیں ہدایت کے نشا ن اور اندھیروں کے چراغ نظر آئیں گے جن کے گرد فرشتے حلقہ کئے ہو ں گے ۔
تسلی و تسکین کا ان پر ورود ہو۔ آسمان کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہوں ۔عزت کی مسندیں ان کے لئے مہیا ہوں۔ایسی جگہ پر کہ جہاں اللہ کی نظر توجہ ان پر ہو ،وہ ان کی کوششوں سے خوش ہو اور ان کی منزلت پر آفرین کرتا ہو۔وہ اسے پکارنے کی وجہ سے عفو و بخشش کی ہواؤں میں سانس لیتے ہوں ،وہ اس کے فضل و کرم کی احتیاج میں گروی ہوں اور اسکی عظمت و رفعت کے سامنے ذلت و پستی میں جکڑے ہوئے ہوں۔ غم و اندوہ کی طویل مدت نے ان کے دلوں کو زخمی او رگریہ و بکاکی کثرت نے ان کی آنکھوںکو مجروح کر دیا ہو۔ہر ا س دروازہ پران کا ہاتھ دستک دینے والاہے جو اس کی طرف متوجہ و راغب کرے ۔وہ اس سے مانگتے ہیں کہ جس کے جودو کرم کی پہنائیاں تنگ نہیں ہوتیں اورنہ خواہش لے کر بڑھنے والے نا امید پھرتے ہیں ۔تم اپنی بہبود ی کے لئے اپنے ہی نفس کا محاسبہ کرو کیونکہ دوسروں کا محاسبہ کرنے والاتمہارے علاوہ دوسرا ہے۔