بے شک اللہ کا خوف ہدایت کی کلید اور آخرت کا ذخیرہ ہے (خواہشوں کی) ہر غلامی سے آزادی اور ہر تباہی سے رہائی کا باعث ہے۔ اس کے ذریعہ طلبگار منزلِ مقصود تک پہنچتا  اور (سختیوں سے) بھاگنے والانجات پاتا ہے اور مطلوبہ چیزوں تک پہنچ جاتا ہے۔ (اچھے) اعمال بجا لے آؤ، ابھی جبکہ اعمال بلند ہو رہے ہیں تو یہ فائدہ دے سکتی ہے۔ پکار سنی جا رہی ہے۔ حالات پر سکون اور (کراماً کاتبین کے ) قلم رواں ہیں۔ ضعف و پیری کی طرف پلٹانے والی عمر زنجیرِ پا بن جانے والے مرض اور جھپٹ لینے والی موت سے پہلے اعمال کی طرف جلدی کرو کیونکہ موت تمہاری لذتوں کو تباہ کرنے والی خواہشات کو مکدر بنانے والی اور تمھاری منزلوں کو دور کر دینے والی ہے۔

یہ ناپسندیدہ ملاقاتی اور شکست نہ کھانے والاحریف ہے اور ایسی خونخوار ہے کہ اس سے (خون بہا کا) مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پھندے تمہیں جکڑے ہوئے ہیں اور اس کی تباہ کاریاں تمھیں گھیرے ہوئے ہیں اور اس کے (تیروں کے) پھل تمھیں سیدھا نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور تم پر اس کا غلبہ و تسلط عظیم اور تم پر اس کا ظلم و تعدی برابر جاری ہے اور اس کے وارکے خالی جانے کا امکان کم ہے۔ قریب ہے کہ سحابِ مرگ کی تیرگیاں، مرض الموت کے لو کے جان لیوا سختیوں کے اندھیرے، سانس اکھڑنے کی مدہوشیاں، جان کنی کی اذیتیں، اس کے ہر طرف سے چھا جانے کی تاریکی اور کام و دہن کے لیے اس کی بدمزگی تمھیں گھیر لے۔

 گویا کہ وہ تم پر اچانک آپڑی ہے کہ جس نے تمھارے ساتھ چپکے چپکے باتیں کرنے والے کو خاموش کر دیا اور تمھاری جماعت کو متفرق و پراگندہ کر دیا اور تمھارے نشانات کو مٹا دیا اور تمھارے گھروں کو سنسان کر دیا۔ اور تمھارے وارثوں کو تیار کر دیا کہ وہ تمھارے ترکہ کو مخصوص عزیزوں میں کہ جنھوں نے تمھیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا اور ان غم زدہ قریبیوں میں کہ جو (موت کو) روک نہ سکے اور اُن خوش ہونے والے (رشتہ داروں) میں جو ذرا بے چین نہیں ہوے، تقسیم کر لیں۔

لہذا تمہیں لازم ہے کہ تم سعی و کوشش کرو، اور (سفرِ آخرت) کے لیے تیار ہو جاؤ اور سرو سامان مہیا کرو اور زادِ مہیا کر لینے والی منزل سے زاد فراہم کر لو۔ دنیا تمھیں فریب نہ دے۔ جس طرح تم سے پہلے گذر جانے والی امتوں اور گزشتہ لوگوں کو فریب دیا کہ جنھوں نے اس دنیا کا دودھ دوہا اور اُس کی غفلت سے فائدہ اٹھا لے گئے اور اس کے گنے چنے (دنوں کو) فنا اور تازگیوں کو پژمردہ کر دیا، ان کے گھروں نے قبروں کی صورت اختیار کر لی،ان کا مال ترکہ بن گیا جو ان کی قبروں پر آتا ہے، اسے پہچانتے نہیں،جو انہیں روتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتے اور جو پکارے اُسے جواب نہیں دیتے۔ اس دنیا سے ڈرو کہ یہ غدار، دھوکہ باز اور فریب کار ہے، دینے والی (اور پھر) لے لینے والی ہے ، لباس پہنانے والی اور پھر اتروا لینے والی ہے۔ اس کی آسائشيں ہمیشہ نہیں رہتیں نہ اس کی سختیاں ختم ہوتی ہیں اور نہ اس کی مصیبتیں تھمتی ہیں۔

اس خطبہ کا یہ حصہ زاھدوں کے اوصاف میں ہے: وہ ایسے لوگ تھے جو اہلِ دنیا میں سے تھے، مگر (حقیقتاً) دنیا والے نہ تھے۔ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ گویا دنیا سے نہ ہوں، اُن کا عمل ان چیزوں پر ہے جنہیں خوب جانے پہچانے ہوئے ہیں اور جس چیز سے خائف ہیں اُس سے بچنے کے لیے جلدی کرتے ہیں۔ اُن کے جسم گویا اہل آخرت کے مجمع میں گردش کر رہے ہیں۔ وہ اہلِ دنیا کو دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی جسمانی موت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور وہ ان اشخاص کے حال کو زیادہ اندوہناک سمجھتے ہیں ،جو زندہ ہیں مگر اُن کے دل مردہ ہیں۔