عبد اللہ ابن زمعہ جو آپ کی جماعت میں محسوب ہوتا تھا آپ کے زمانۂ خلافت میں کچھ مال طلب کرنے کے لئے حضرت ؑکے پاس آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:

یہ مال نہ میرا ہے نہ تمھارا بلکہ مسلمانوں کا حق مشترک اور اُن کی تلواروں کا جمع کیا ہوا سرمایہ ہے۔ اگر تم ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے ہوتے تو تمھارا حصہ بھی اُن کے برابر ہوتا، ورنہ ان کے ہاتھوں کی کمائی دوسروں کے منہ کا نوالہ بننے کے لیے نہیں ہے۔