جب امیر الموٴمنین علیہ السلام کو پے درپے یہ اطلاعات ملیں کہ مُعاویہ کے اصحاب (آپ کے مقبوضہ) شہروں پر تسلط جما رہے ہیں اور یمن کے عامل عبیدا للہ ابنِ عباس اور سپہ سالارِ لشکر سعید ابن ِ نمران بسر ابن ابی ارطات سے مغلوب ہو کر حضرت کے پاس پلٹ آئے تو آپ اپنے اصحاب کی جہاد میں سُستی اور رائے کی خلاف ورزی سے بد دل ہو کر منبر کی طرف بڑھے اور فرمایا۔

یہ عالم ہے اس کوفہ کا ، جس کا بندوبست میرے ہاتھ میں ہے (اے شہر کوفہ) اگر تیرا یہی عالم رہا کہ تجھ میں آندھیاں چلتی رہیں ، تو خدا تجھے غارت کرے ۔ پھر آپ نے شاعر کا یہ شعر بطورِ تمثیل پڑھا: اے عمرو!تیرے اچھے باپ کی قسم، مجھے تو اس برتن سے تھوڑی سی چکناہٹ ہی ملی ہے (جو برتن کے خالی ہونے کے بعد اس میں لگی رہ جاتی ہے )

اس کے بعد فرمایا:مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ بسر یمن پر چھا گیا ہے ،بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ وہ (مرکز) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز ) حق سے پراگندہ و منتشر، تم امرِ حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں ،وہ اپنے ساتھی (معاویہ ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے،وہ اپنے شہروں میں امن بحال رکھتے ہیں اور تم شورشیں برپا کرتے ہو میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔

ا ے اللہ وہ مجھ سے تنگ دل ہو چکے ہیں اور میں ان سے ،وہ مجھے سے اکتا چکے ہیں اور میں ان سے مجھے ان کے بدلے میں اچھے لوگ عطا کر اور میرے بدلے میں انہیں کوئی اور بُرا حاکم دے ،خدا یا ان کے دلوں کو اس طرح (اپنے غضب سے ) پگھلا دے جس طرح نمک پانی میں گھول دیا جاتا ہے ۔ خدا کی قسم میں اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ تمہارے بجائے میرے پاس بنی فراس ابن غنم کے ایک ہی ہزار سوار ہوتے، ایسے (جن کا وصف شاعر نے یہ بیان کیا ہے کہ ) اگر تم کسی موقعہ پر انھیں پکارو، تو تمہارے پاس ایسے سوار پہنچیں جو تیز روی میں گرمیوں کے ابر کے مانند ہیں اس کے بعد حضرت منبر سے نیچے آتر آئے۔

سید رضی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس شعر میں لفظِ ارمیہ، رمی کی جمع ہے جس کے معنی اَبر کے ہیں اور حمیم کے معنی یہاں پر موسمِ گرم کے ہیں اور شاعرنے گرمیوں کے ابر کی تخلیق اس لئے کی ہے کہ وہ سریع السیر اور تیز رفتار ہوتا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پانی سے خالی ہوتا ہے اور ابر سست گام اس وقت ہوتا ہے جب اس میں پانی بھرا ہوا ہو اور ایسے ابر (ملک ِ عرب) عموماً سردیوں میں اٹھتے ہیں۔ اس شعر سے شاعر کا مقصود یہ ہے کہ انہیں جب مدد کے لئے پکارا جاتا ہے ا ور ان سے فریاد رسی کی جاتی ہے تو وہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور اس کی دلیل شعر کا پہلا مصرع ہے :ھنالک لود عوت اتاک منھم (اگر تم پکارو تو وہ تمہارے پاس پہنچ جائیں گے ۔