اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں کو (ان کی بد اعمالیوں سے ) متنبہّ کرنے والااور اپنی وحی کا امین بنا کر بھیجا۔ اے گروہ عرب اس وقت تُم بد ترین دین پر اور بد ترین گھروں میں تھے، کھردرے پتھروں اور زہریلے سانپوں میں تم بودو باش رکھتے تھے تم گدلاپانی پیتے اور لوٹا جھوٹا کھاتے تھے؛ ایک دوسرے کا خون بہاتے اور رشتہ قرابت قطع کیا کرتے تھے، تمہارے درمیان بت گڑے ہوئے تھے اور گناہ تم سے چمٹے ہوئے تھے۔

(اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے :)میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا، تو مجھے اپنے اہل بیت کے علاوہ کوئی اپنا معین و مدد گار نظر نہ آیا۔ میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے بخل کیا، آنکھوں میں خس و خاشاک تھا مگر میں نے چشم پوشی کی، حلق میں پھندے تھے مگر میں نے غم و غصہ کے گھونٹ پی لئے اور گلو گرفتگی کے باوجود حنظل سے زیادہ تلخ حالات پر صبر کیا۔

( اسی خطبہ کا ایک جُز یہ ہے): اس نے اس وقت تک معاویہ کی بیعت نہیں کی جب تک یہ شرط اس سے منوانہ لی کہ وہ اس بیعت کی قیمت ادا کرے، اس بیعت کرنے والے کے ہاتھوں کو فتح و فیروز مندی نصیب نہ ہو اور خریدنے والے کے معاہدے کو ذلت و رسوائی حاصل ہو ( لو اب وقت آگیا کہ ) تم جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ اور اس کے لئے سازو سامان مہیا کرلو، اس کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور لپٹیں بلند ہو رہی ہیں اور جامعہ صبر پہن لوکہ اس سے نصرت و کامرانی حاصل ہونے کا زیادہ امکان ہے۔