جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے اللہ نے اپنے خاص دوستوں کے لئے کھولا ہے ، یہ پرہیز گاری کا لباس ،اللہ کی محکم زرہ اور مضبوط سپر ہے جو اس سے پہلو بچاتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا ہے ۔ خدا اسے ذلت و خواری کا لباس پہنا اور مصیبت و ابتلا کی ردا اوڑھا دیتا ہے اور ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ ٹھکرا دیا جاتا ہے اور مدہوشی و غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور جہاد کو ضائع و بربا د کرنے سے حق اس کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے ،ذلت اسے سہنا پڑتی ہے اور انصاف اس سے روک لیا جاتا ہے ۔

 میں نے اس قوم سے لڑنے کے لئے رات بھی اور دن بھی علانیہ بھی اور پوشیدہ بھی تمہیں پکارا اور للکارا، اور تم سے کہا کہ قبل اس سے کہ وہ جنگ کے لئے بڑھیں تم ان پر دھاوا بول دو، خدا کی قسم جن افراد قوم پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں، لیکن تم نے جہاد کو دوسروں پرٹال دیا اور ایک دوسرے کی مدد سے پہلو بچانے لگے یہاں تک کہ تم پر غارت گریاں ہوئیں اور تمہارے شہروں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔

 اسی بنی غامد کے آدمی (سفیان ابنِ عوف) ہی کو دیکھ لو کہ اس کی فوج کے سوار (شہر) انبار کے اندر پہنچ گئے اور حسان ابنِ حسان بکری کو قتل کر دیا اور تمہارے محافظ سواروں کو سرحدوں سے ہٹا دیا اور مجھے تو یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ اس جماعت کا ایک آدمی مسلمان اور ذمی عورتوں کے گھروں میں گھس جاتا تھا اور اس کے پیروں سے کڑے (ہاتھوں سے کنگن) او رگلو بند اور گوشوارے اتار لیتا تھا اور ان کے پاس اس سے حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہ آتا تھا سوا اس کے کہ اِنّاَ لِلہِ وَ اِنّاَ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن کہتے صبر سے کام لیں یا خوشامدیں کر کے اس سے رحم کی التجا کریں،وہ لدے پھندے ہوئے پلٹ گئے نہ کسی کے زخم آیا نہ کسی کا خون بہا،اب اگر کوئی مسلمان ان سانحات کے بعد رنج و ملال سے مر جائے تو اسے ملامت نہیں کی جا سکتی بلکہ میرے نزدیک ایسا ہی ہونا چاہیئے۔

العجب ثم العجب خدا کی قسم ان لوگوں کا باطل پر ایکا کر لینا اور تمہاری جمعیت کا حق سے منتشر ہو جانا ،دل کو مردہ کر دیتا ہے اور رنج و اندوہ بڑھا دیتا ہے ۔ تمہارا بُرا ہو ۔ تم غم و حزن میں مبتلا رہو۔ تم تو تیروں کا از خود نشانہ بنے ہوئے ہو، تمہیں ہلاک و تاراج کیا جا رہا ہے مگر تمہارے قدم حملے کیلئے نہیں اٹھتے !. وہ تم سے لڑ بھڑ رہے ہیں اور تم جنگ سے جی چراتے ہو،اللہ کی نافرمانیاں ہو رہی ہیں اور تم راضی ہو رہے ہو۔

 اگر گرمیوں میں تمہیں ان کی طرف بڑھنے کے لئے کہتا ہوں تو تم یہ کہتے ہو کہ یہ انتہائی شدت کی گرمی کا زمانہ ہے اتنی مہلت دیجئے کہ گرمی کا زور ٹوٹ جائے اور اگر سردیوں میں چلنے کے لئے کہتا ہوں تو تم یہ کہتے ہو کہ کڑا کے کا جاڑا پڑ رہا ہے اتنا ٹھہر جائیے کہ سردی کا موسم گزر جائے ،یہ سب سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے باتیں ہیں، جب تم سردی اور گرمی سے اس طرح بھاگتے ہو تو پھر خدا کی قسم ! تم تلواروں کو دیکھ کر اس سے کہیں زیادہ بھاگو گے !۔

 اے مردوں کی شکل و صورت والے نامردو! تمہاری عقلیں بچوں کی سی اور تمہاری سمجھ حجلہ نشین عورتوں کے مانند ہے ۔ میں تو یہی چاہتا تھا کہ نہ تم کو دیکھتا نہ تم سے جان پہچان ہوتی ،ایسی شناسائی جو ندامت کا سبب اور رنج واندوہ کا باعث بنی ہے ،اللہ تمہیں مارے ، تم نے میرے دل کو پیپ سے بھر دیا ہے اور میرے سینے کو غیظ و غضب سے چھلکا دیا ہے ۔ تم نے مجھے غم و حزن کے جرعَے پے در پے پلائے، نافرمانی کر کے میری تدبیر و رائے کو تباہ کر دیایہاں تک کہ قریش کہنے لگے کہ علی ہے تو مردِ شجاع لیکن جنگ کے طور طریقوں سے واقف نہیں۔

اللہ ان کا بھلا کرے ، کیا ان میں سے کوئی ہے جو مجھے سے زیادہ جنگ کی مزادلت رکھنے والااور میدانِ دغامیں میرے پہلے سے کارِ نمایا ں کئے ہوئے ہو، میں تو ابھی بیس برس کا بھی نہ تھا کہ حرب و ضرب کے لئے اٹھ کھڑا ہوااور اب تو ساٹھ سے اوپر ہو گیا ہوں، لیکن اس کی رائے ہی کیا جس کی بات نہ مانی جائے۔