دنیا نے پیٹھ پھیر کر اپنے رخصت ہونے کا اعلان اور منزل عقبیٰ نے سامنے آ کر اپنی آمد سے آگاہ کر دیا ہے ۔ آج کا دن تیاری کا ہے اور کل دوڑ کا ہو گا ،جس طرف آگے بڑھنا ہے وہ تو جنت ہے اور جہاں کچھ اشخاص (اپنے اعمال کی بدولت بلا اختیار پہنچ جائیں گے وہ دوزخ ہے، کیا موت سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والاکوئی نہیں اور کیا اس روز مصیبت کے آنے سے پہلے عمل (خیر) کرنے والاایک بھی نہیں۔

تم امیدوں کے دور میں ہو جس کے پیچھے موت کا ہنگام ہے ،تو جو شخص موت سے پہلے ان امیدوں کے دنوں میں عمل کر لیتا ہے تو یہ عمل اُس کیلئے سودمند ثابت ہوتا ہے اور موت اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور جو شخص موت سے قبل زمانہ امید و آرزو میں کوتاہیاں کرتا ہے تو وہ عمل کے اعتبار سے نقصان رسیدہ رہتا ہے اور موت اس کیلئے پیغام ضرر لے کر آتی ہے ،لہٰذا جس طرح اس وقت جب ناگوار حالات کا اندیشہ ہو نیک اعمال میں منہمک ہوتے ہوویسا ہی اس وقت بھی نیک اعمال کرو جب کہ مستقبل کے آثار مسرت افزا محسوس ہو رہے ہوں۔

مجھے جنت ہی ایسی چیز نظر آتی ہے جس کا طلب گار سویا پڑا ہو اور جہنم ہی ایسی شے دکھائی دیتی ہے جس سے دور بھاگنے والاخواب غفلت میں محو ہو، جو حق سے فائدہ نہیں اٹھاتااسے باطل کا نقصان و ضر راٹھانا پڑے گا، جس کو ھدایت ثابت قدم نہ رکھے اسے گمراہی ہلاکت کی طرف کھینچ لے جاےٴ گی،تمہیں کوچ کاحکم مل چکاہےاور زادراہ کا پتہ دیا جا چکا ہے،مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ دو ہی چیزوں کا خطرہ ہے ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاوٴ، اس دنیا میں رہتے ہوےٴ اس سے اتنا زاد لے لو جس سےکل اپنے نفسوں کو بچا سکو ۔

سید رضی کہتے ہیں کہ اگر کوئی کلام گردن پکڑ کر زہد دنیوی کی طرف لانے والااور عمل اخروی کیلئے مجبور و مضطر کر دینے والاہو سکتا ہے تو وہ کلام ہے جو امیدوں کے بندھنوں کو توڑنے اور وعظ و سرزنش سے اثر پذیری کے جذبات کو مشتعل کرنے کیلئے کافی و وافی ہے ۔ اس خطبے میں یہ جملہ ”الاوان الیوم المضمار و غدا السباق،والسبقة الجنة و الغایة النار“ تو بہت ہی عجیب و غریب ہے ،اس میں لفظوں کی جلالت، معنی کی بلندی، سچی تمثیل اور صحیح تشبیہ کے ساتھ عجیب اسرار اور باریک نکات ملتے ہیں۔

حضرت نے اپنے ارشاد”السبقة الجنة و الغایة النار“ میں بمعنی مقصود کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے دو جداگانہ لفظیں ”السبقة والغایة“ استعمال کی ہیں،جنت کیلئے لفظ ”سبقة“ (بڑھنا) فرمائی ہے اور جہنم کیلئے یہ لفظ استعمال نہیں کی، کیونکہ سبقت اس چیز طرف کی جاتی ہے جو مطلوب و مرغوب ہو اور یہ بہشت ہی کی شان ہے اور دوزخ میں مطلوبیت و مرغوبیت کہاں کہ اس کی جستجو و تلاش میں بڑھا جائے (نعوذ باللہ منہا ) چونکہ السبقة النار کہنا صحیح و درست نہیں ہو سکتا تھا اسی لئے والغایہ النار فرمایا اور غایت صرف منزل منتہا کو کہتے ہیں اس تک پہنچنے والے کو خواہ رنج و کوفت ہو یا شادمانی و مسرت ،یہ ان دونوں معنوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے،بہر صورت اسے مصیرو مآل (باز گشت ) کے معنی میں سمجھنا چاہیے اور ارشاد قرآنی ہے ۔”قُل تَمَتعُوا فَان مَصِیر کُمْ اِلَی النار“(کہو کہ تم دنیا سے اچھی طرح حظ اٹھا لو،آخر تو تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے ) یہاں  مصیرکم کی بجائے سبقتکم کہنا کسی طرح صحیح و درست نہیں سمجھا جا سکتا،اس میں غور و فکر کرو اور دیکھو کہ اس کا باطن کتنا عجیب اور اس کا گہراوٴ لطافتوں کو لئے ہوئے کتنی دور تک چلا گیا ہے اور حضرت امام علی علیہ السلام کا بیشتر کلام اسی انداز پر ہوتا ہے اور بعض روایتوں میں”السُبقة بضم سین“ بھی آیا ہے اور السُبقة اُس مال و متاع کو کہتے ہیں جو آگے نکل جانے والے کیلئے بطور انعام رکھا جاتا ہے ،بہر صورت دونوں کے معنی قریب قریب یکساں ہیں اس لئے کہ معاوضہ و انعام کسی قابل مذمت فعل پر نہیں ہوتا بلکہ کسی اچھے اور لائق ستائش کارنامے کے بدلے ہی میں ہوتا ہے ۔