اللہ کی حمدو ثنا کرتا ہوں ، اس کی نعمتوں کی تکمیل چاہنے اس کی عزت و جلال کے آگے سر جھکانے اور اس کی معصیّت سے حفاظت حاصل کرنے کے لئے اور اس سے مدد مانگتا ہوں اس کی کفایت و دستگیری کا محتاج ہونے کی وجہ سے ۔

جسے وہ ہدایت کرے وہ گمراہ نہیں ہوتا، جسے وہ د شمن رکھے اسے کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا، جس کا وہ کفیل ہو وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا ،یہ (حمد اور طلبِ امداد ) وہ ہے جس کا ہر وزن میں آنے والی چیز سے پلہ بھاری ہے اور ہر گنج گراں مایہ سے بہتر و برتر ہے ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو یکتا و لاشریک ہے ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جا چکا ہے اور جس کا نچوڑ بغیر کسی شائبے کے دل کا عقیدہ بن چکا ہے ۔زندگی بھر ہم اسی سے وابستہ رہیں گے اور اسی کوپیش آنےوالے خطرات کے لئے ذخیرہ بنا کر رکھیں گے یہی گواہی ایمان کو مضبوط بنیاد اور حسنِ عمل کا پہلا قدم اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ اور شیطان کی دوری کا سبب ہے ۔

اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے عبد اور رسول ہیں، جنہیں شہرت یافتہ دین ، منقول شدُہ نشان، لکھی ہوئی کتاب ، ضُو فشاں نور، چمکتی ہوئی روشنی اور فیصلہ کن امر کے ساتھ بھیجا تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے اور دلائل (کے زور) سے حجت تمام کی جائے،آیتوں کے ذریعے ڈرایا جائے اور عقوبتوں سے خوف زدہ کیا جائے .

(اس وقت حالت یہ تھی کہ ) لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جہاں دین کے بندھن شکستہ ، یقین کے ستون متزلزل ، اصول مختلف اور حالات پراگندہ تھے۔ نکلنے کی راہیں تنگ و تاریک تھیں،ہدایت گمنام اور ضلالت ہمہ گیر تھی۔ (کھلے خزانوں ) اللہ کی مخالفت ہوتی تھی اور شیطان کو مدد دی جارہی تھی ایمان بے سہارا تھا، چنانچہ اس کے ستون گر گئے ، اس کے نشان تک پہچاننے میں نہ آتے تھے، اس کے راستے مٹ مٹا گئےاور شاہرا ہیں اجڑ گئیں،

وہ شیطان کے پیچھے لگ کر اس کی راہوں پر چلنے لگے اور اسکے گھاٹ پر اتُر پڑے،انہیں کی وجہ سے اس کے پھریرے ہر طرف لہرانے لگے تھے۔ ایسے فتنوں میں جو انہیں اپنے سموں سے روندتے اور اپنے کھُروں سے کچلتے تھے اور اپنے پنجوں کے بَل مضبوطی سے کھڑے ہوئے تھے۔ تو وہ لوگ ان میں حیران و سرگرداں ، جاہل و فریب خوردہ تھے، ایک ایسے گھر میں جو خود اچھا، مگر اس کے بسنے والے بُرے تھے، جہاں نیند کے بجائے بیداری اور سُر مے کی جگہ آنسو تھے، اس سرِ زمین پر عالم کے منہ میں لگام تھی اور جاہل معزز اور سرفراز تھا ۔

(اسی خطبہ کا ایک حصہ جو ا ہل بیت ِنبی علیہم السلام سے متعلق ہے)

وہ سرِ خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ ہیں، علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں۔ کتب (آسمانی ) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں، انہیں کے ذریعے اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اور اس کے پہلوؤں سے ضعف کی کپکپی دُور کی۔

(اسی خطبہ کا ایک حصہ جو دوسروں سے متعلق ہے ) انہوں نے فسق و فجور کی کاشت کی غفلت و فریب سے اسے سینچا اور اس سے ہلاکت کی جنس حاصل کی۔

اس امت میں کسی کو آلِ محّمد پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے ،وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں، آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آکر ملنا ہے ، حقِ ولایت کی خصوصیات انہیں کے لئے ہیں اور انہی کے بارے میں “پیغمبر کی “ وصیت اور انہی کے لئے (نبی کی ) وراثت ہے۔ اب یہ وقت وہ ہے کہ حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہو گیا۔