لوگوں کو اہلِ شام سے آمادہٴ جنگ کرنے کے لئے فرمایا ۔

حیف ہے تم پر ، میں تو تمہیں ملامت کرتے کرتے بھی اُکتا گیا ہوں کیا تمہیں آخرت کے بدلے دنیوی زندگی اور عزت کے بدلے ذلّت ہی گوارا ہے ؟ جب تمہیں دشمنوں سے لڑنے کے لئے بلاتا ہوں تو تمہاری آنکھیں اس طرح گھومنے لگ جاتی ہیں کہ گویا تم موت کے گرداب میں ہو اور جان کنی کی غفلت اور مدہوشی تم پر طاری ہے ،میری باتیں جیسے تمہاری سمجھ ہی میں نہیں آتیںتو تم ششدر رہ جاتے ہو، معلوم ہوتا ہے جیسے تمہاری دل و دماغ پر دیوانگی کا اثر ہے کہ تم کچھ عقل سے کام نہیں لے سکتے .

 تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے اپنا اعتماد کھو چکے ہو۔ نہ تم کوئی قوی سہارا ہو کہ تم پر بھروسہ کر کے دشمنوں کی طرف رُخ کیا جائے اور نہ تم عزت و کامرانی کے وسیلے ہوکہ تمہاری ضرورت محسوس ہو، تمہاری مثال تو ان اونٹوں کی سی ہے  جن کے چرواہے گُم ہو گئے ہوں، اگر انہیں ایک طرف سے سمیٹا جائے تو دوسری طرف سے تِتر بتر ہو جائیں گے .

 خدا کی قسم تم جنگ کے شعلے بھڑکانے کے لئے بہت بُرے ثابت ہوئے ہو، تمہارے خلاف سب تدبیریں ہوا کرتی ہیں اور تم دشمنوں کے خلاف کوئی تدبیر نہیں کرتے ،تمہارے (شہروں کے ) حدود (دن بہ دن ) کم ہوتے جا رہے ہیں مگر تمہیں غصہ نہیں آتا۔ وہ تمہاری طرف سے کبھی غافل نہیں ہوتے اور تم ہو کہ غفلت میں سب کچھ بھولے ہوئے ہو،خدا کی قسم ایک دوسرے پر ٹالنے والے ہارا ہی کرتے ہیں۔

 خدا کی قسم میں تمہارے متعلق یہ گمان رکھتا ہوں کہ اگر جنگ زور پکڑ لے اور موت کی گرم بازاری ہو، تو تم ابن ابی طالب سے اس طرح کٹ جاؤ گے جس طرح بدن سے سَر ( کہ دوبارہ پلٹنا ممکن ہی نہ ہو ) جو شخص کہ اپنے دشمن کو اس طرح اپنے پر قابو دے دے کہ وہ اس کی ہڈیوں سے گوشت تک اڑا ڈالے اور ہڈیوں کو توڑ دے اور کھال کو پارہ پارہ کردے تو اس کا عجز انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور سینے کی پسلیوں میں گھرا ہوا (دل) کمزور و ناتواں ہے ۔ اگر تم ایسا ہونا چاہتے ہو تو ہوا کرو، لیکن میں تو ایسا اس وقت تک نہ ہونے دوں گا جب تک مقام مشارف کی (تیز دھار) تلواریں چلا نہ لوں کہ جس سے سَر کی ہڈیوں کے پرخچے اڑ جائیں اور بازو اور قدم کٹ کٹ کر گرنے لگیں ، اس کے بعد جو اللہ چاہے ، وہ کرے ۔

اے لوگو! ایک تو میرا تم پر حق ہے اور ایک تمہارا مجھ پر حق ہے کہ میں تمہاری خیر خواہی پیشِ نظر رکھوں اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں جس پر تم عمل کرو او رمیرا تُم پر یہ حق ہے کہ بیعت کی ذمہ داریوں کو پورا کرو اور سامنے او رپسِ پشت خیر خواہی کرو، جب بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔