تحکیم کے بعد فرمایا:

(ہر حالت میں ) اللہ کے لئے حمدو ثنا رہے ۔ گو زمانہ (ہمارے لیے ) جانکاہ مصیبتیں اور صبر آزما حادثے لے آیا ہے ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا و لاشریک ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں اور محمد ﷺ اس کے عبد اور رسولﷺ ہیں۔

(تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ) مہربان ، باخبر اور تجربہ کا رناصح کی مخالفت کا ثمرہ ، حسرت و ندامت ہوتا ہے ،میں نے اس تحکیم کے متعلق اپنا فرمان سُنا دیا تھا اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ تمہارے سامنے رکھ دیا تھا۔ کاش کہ “قصیر “ کا حکم مان لیا جاتا لیکن تُم تو تُند خو مخالفین اور عہد شکن نافرمانوں کی طرح انکار پر تُل گئے ۔ یہاں تک کہ ناصح خود اپنی نصیحت کے متعلق سوچ میں پڑ گیا اور طبیعت اس چقماق کی طرح بجھ گئی کہ جس نے شعلے بھڑکانا بند کر دیا ہو میرے اور تمہاری حالت شاعر بنی ہوازن کے اس قول کے مطابق ہے:

میں نے مقامِ منعرج اللوی (ٹیلے کا موڑ) پر تمہیں اپنے حکم سے آگاہ کیا( گو اس وقت تم نے میری نصیحت پر عمل نہ کیا) لیکن دوسرے دن کی چاشت کو میری نصیحت کی صداقت دیکھ لی۔