اہل ِ نہروان کو ان کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:

میں تمہیں متنبّہ کر رہا ہوں کہ تم لوگ اس نہر کے موڑوں اور اس نشیب کی ہموار زمینوں پر قتل ہو ہوکر گرے ہوئے ہو گے ،اس عالم میں کہ نہ تمہارے پاس اللہ کے سامنے (عذر کرنے لے لیے) کوئی واضح دلیل ہو گی نہ کوئی روشن ثبوت۔ اس طرح کہ تم اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے اور پھر قضائے الٰہی نے تمہیں اپنے پھندے میں جکڑ لیا۔

 میں نے تو تمہیں پہلے ہی اس تحکیم سے روکا تھا لیکن تم نے میرا حکم ماننے سے مخالف پیمان شکنوں کی طرح انکار کر دیا ،یہاں تک کہ (مجبوراً) مجھے بھی اپنی رائے کو ادھر موڑنا پڑا جو تم چاہتے تھے۔ تم ایک ایسا گروہ ہو جس کے افراد کے سَر عقلوں سے خالی ، اور فہم و دانش سے عاری ہیں۔ خدا تمہارا بُرا کرے میں نے تمہیں نہ کسی مصیبت میں پھنسایا ہے ، نہ تمہارا بُرا چاہا تھا۔