ہماری وجہ سے تم نے (گمراہی ) کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی اور رفعت و بلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھا ، اور ہمارے سبب سے اندھیری راتوں کو اندھیاریوں سے صبح (ہدایت) کے اجالوں میں آگئے ۔ وہ کان بہرے ہو جائیں جو چلانے والے کی چیخ پکار کو نہ سنیں، بھلا وہ کیونکر میری کمزور اور دھیمی آواز کو سن پائیں گے جو اللہ و رسول کی بلند بانگ صداؤں کے سننے سے بھی بہرے رہ چکے ہوں، ان دلوں کو سکون و قرار نصیب ہوجن سے خوفِ خدا کی دھڑکنیں الگ نہیں ہوتیں !

میں تم سے ہمیشہ عذر وبیوفائی ہی کے نتائج کا منتظر رہا اور فریب خوردہ لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ کے ساتھ تمہیں بھانپ لیا تھا، اگرچہ دین کی نقاب نے مجھ کو تم سے چھپائے رکھا، لیکن میری نیت کے صدق و صفا نے تمہاری صورتیں مجھے دکھا دی تھیں۔

میں بھٹکانے والی راہوں میں تمہارے لئے جا دۂ حق پر کھڑا تھا، جہاں تم ملتے ملاتے تھے مگر کوئی راہ دکھانے والا نہ تھا، تم کنواں کھودتے تھے مگر پانی نہیں نکال سکتے تھے، آج میں نے اپنی اس خاموش زبان کو جس میں بڑی بیان کی قوت ہے گو یا کیا ہے اس شخص کی رائے کے لئے دوری ہو جس نے مجھ سے کنارہ کشی کی ۔جب سے مجھے حق دکھایا گیاہے میں نے کبھی اس میں شک و شبہ نہیں کیا۔ حضرت موسیٰ نے اپنی جان کے لئے خوف کا لحاظ کبھی نہیں کیا بلکہ جاہلوں کے غلبہ اور گمراہی کے تسلط کا ڈر تھا( اسی طرح میری اب تک کی خاموشی کوسمجھنا چاہئیے) آج ہم اور تم حق و باطل کے دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہیں جسے پانی کا اطمینان ہو وہ پیاس نہیں محسوس کرتا، اسی طرح میری موجودگی میں تمہیں میری قدر نہیں۔