جب آپ علیہ السلام نے خوارج کا قول لاحکم الاللہ (حکم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے) سنا تو فرمایا:

یہ جملہ تو صیح ہے مگر جو مطلب وہ لیتے ہیںوہ غلط ہے، ہاں بیشک حکم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے، مگر یہ لوگ تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت بھی اللہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ لوگوں کے لیے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا(اگر اچھا ہو گا تو) مومن اس کی حکومت میں اچھے عمل کرسکے گا اور (برا ہوگا تو)کافر اس کے عہد میں لذائذ سے بہرہ اندوز ہو گا اور اللہ اس نظامِ حکومت میں ہر چیز کو اس کی آخری حدوں تک پہنچا دے گا۔ اسی حاکم کی وجہ سے مال (خراج و غنیمت) جمع ہوتا ہے، دشمن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہیںاور قوی سے کمزور کا حق دلایا جا تاہے، یہاں تک کہ نیک حاکم (مر کر یا معزول ہو کر) راحت پائےاور برے حاکم کے مرنے یا معزول ہونے سے دوسروں کو راحت پہنچے۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے تحکیم کے سلسلے میں (ان کا قول) سنا تو فرمایا کہ: میں تمہارے بارے میں حکم خدا ہی کا منتظر ہوں۔

پھر فرمایا کہ: اگر حکومت نیک ہو تو اس میں متقی و پرہیز گار اچھے عمل کرتا ہے اور بری حکومت ہو تو اس میں بدبخت لوگ جی بھر کر لطف اندوز ہوتے ہیںیہاں تک کہ ان کا زمانہ ختم ہو جائے اور موت انہیں پالے۔