(جب مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی معاویہ کے پاس بھاگ گیا ) چونکہ اس نے حضرت کے ایک عامل سے بنی ناجیہ کے کچھ اسیر خریدے تھے، جب امیر الموٴمنین علیہ السلام نے اس سے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ بددیانتی کرتے ہوئے شام چلا گیا، جس پر آپ نے فرمایا:

خُدا مصقلہ کا بُرا کرے، کام تو اس نے شریفوں کا سا کیا لیکن غلاموں کی طرح بھاگ نکلا، اس نے مدح کرنے والے کا منہ بولنے سے پہلے ہی بند کر دیااور توصیف کرنے والے کے قول کے مطابق اپنا عمل پیش کرنے سے پہلے ہی اسے خامو ش کر دیا،اگر وہ ٹھہرا رہتا تو ہم اس سے اتنا لے لیتے جتنا اس کے لئے ممکن ہوتااور بقیہ کے لئے اس کے مال کے زیادہ ہونے کا انتظار کرتے ۔