جب شام کی طرف روانہ ہونے کا قصد کیا، تو یہ کلمات فرمائے :

اے اللہ ! مَیں سفر کی مشقت اور واپسی کے اندوہ اور اہل ومال کی بدحالی کے منظر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں رفیق اور بال بچوں کا محافظ ہے ،سفر و حضر کو تیرے علاوہ کوئی یکجا نہیں کر سکتا  کیونکہ جسے پیچھے چھوڑا جائے وہ ساتھی نہیں ہو سکتا اور جسے ساتھ لیا جائے اسے پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا ۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ اس کلام کا ابتدائی حصہ رسول ﷺ سے منقول ہے ،امیرالموٴمنین علیہ السلام نے اس کے آخر میں بلیغ ترین جملوں کا اضافہ فرما کر اسے نہایت احسن طریق سے مکمل کر دیا ہے اور وہ اضافہ (سفر و حضر کو تیرے علاوہ کوئی یکجا نہیں کر سکتا) سے لے کر آخر کلام تک ہے ۔