جب رسول اللہ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو عباس اور ابو سفیان ابن حرب نے آپ سے عرض کیا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں جس پر حضرت نے فرمایا۔

اے لوگو ! فتنہ و فسا د کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیر کر اپنے کو نکال لے جاؤ۔ تفرقہ و انتشار کی راہوں سے اپنا رخ موڑ لو، فخر و مباہات کے تاج اتار ڈالو۔ صحیح طریقہ عمل اختیار کرنے میں کامیاب وہ ہے جو اٹھے تو پر وبال کے ساتھ اٹھے اور نہیں تو (اقتدار کی کرسی ) دوسروں کے لئے چھوڑ بیٹھے اور اس طرح خلق خدا کو بد امنی سے راحت میں رکھے۔ (اس وقت طلبِ خلافت کے لئے کھڑا ہونا) یہ ایک گندلاپانی اور ایسا لقمہ ہے جو کھانے والے کے گلو گیر ہو کر رہے گا۔ پھلوں کو ان کے پکنے سے پہلے چننے ولا ایسا ہے جیسے دوسروں کی زمین میں کاشت کرنے والا۔

اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے۔ افسوس اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں، خدا کی قسم ابو طالب کا بیٹا موت سے اتنا مانوس ہے کہ بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا، البتہ ایک علم پوشیدہ میرے سینے کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے کہ اسے ظاہر کردو ں تو تم اسی طرح پیچ و تاب کھانے لگو جس طرح گہرے کنوؤں میں رسیاں لرزتی اور تھرتھراتی ہیں۔