جب صفین میں معاویہ کے ساتھیوں نے امیرالموٴمنین علیہ السلام کے اصحاب پر غلبہ پا کر فرات کے گھاٹ پر قبضہ جما لیا اور پانی لینے سے مانع ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
وہ تم سے جنگ کے لقمے طلب کرتے ہیں تو اب یا تو تم ذلت اور اپنے مقام کی پستی و حقارت پر سرِ تسلیم خم کر دو ۔یا تلواروں کی پیاس خون سے بُجھا کر اپنی پیاس پانی سے بجھاؤ ان سے دب جانا جیتے جی موت ہے اور غالب آکر مرنا بھی جینے کے برابر ہے ۔ مُعاویہ گم کر دہ راہ سر پھروں کا ایک چھوٹا سا جتھا لیے پھرتا ہے اور واقعات سے انہیں اندھیرے میں رکھ چھوڑا ہے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے سینوں کو موت( کے تیروں ) کا ہدف بنا لیا ہے ۔