دنیا اپنا دامن سمیٹ رہی ہےاور اسنے اپنے رخصت ہونے کا اعلان کردیا ہے،اسکی جانی پہچانی چیزیں اجنبی ہو گئیں اور وہ تیزی کیساتھ پیچھے ہٹ رہی ےاور اپنے رہنے والوں کو فنا کی طرف بڑھا رہی ہےاور اپنے پڑوس میں بسنے والوں کو موت کی طرف دھکیل رہی ہے اسکے شیریں(مزے) تلخ اور صاف و شفاف (لمحے) مکدر ہوگئے ہیں، دنیا سے بس اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن میں تھوڑا سا بچا پانی، یا نپا تلا ہوا جرعہٴآب، کہ پیاسا اگر اسے پیے تو اسکی پیاس نہ بجھے۔

خدا کے بندوں اس دار دنیا سے کہ جس کے رہنے والوں کے لیے زوال امر مسلم ہے، نکلنے کا تہیہ کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آرزوئیں تم پر غالب آ جائیں اور اس (چند روزہ زندگی) کی مدت کودراز سمجھ بیٹھو۔

 خد اکی قسم اگر تم ان اونٹنیوں کی طرح فریاد کروجو اپنے بچوں کو کھو چکی ہوں اور ان کبوتروں کی طرح نالہ و فغاں کرو( جو اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گئے ہوںاور ان گوشہ نشین راہبوں کی طرح چیخو چلاؤ جوگھر بار چھوڑ چکے ہوںاور مال ا ور اولاد سے بھی اپنا ہاتھ اٹھا لو، اس غرض سے کہ تمہیں بارگاہ الہی میں تقرب حاصل ہو، درجہ کی بلندی کےساتھ اسکے یہاں یا ان گناہوں کے معاف ہونے کے ساتھ جو صحیفہ اعمال میں درج اور کراماً کاتبین کویاد ہیں، تو وہ تمام بے تابی اور نالہ و فریاد اس ثواب کے لحاظ سے جس کا میں تمھارے لیے امیدوار ہوں اور اس عقاب کے اعتبار سے جس کا مجھے تمھارے لیے خوف و اندیشہ ہے، بہت ہی کم ہوگی۔

خدا کی قسم اگر تمھارے دل بالکل پگھل جائیں اور تمھاری آنکھیں امید و بیم سے خون بہانے لگیں اور پھر رہتی دنیا تک(اسی حالت میں) جیتے بھی رہو، تو بھی تمھارے اعمال اگرچہ تم نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہو، اس کی نعمات عظیم کی بخشش اور ایمان کی طرف راہنمائی کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔