ہم (مسلمان) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر اپنے باپ، بیٹوں ، بھائیوں اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے، اس سے ہمارا ایمان بڑھتا تھا، اطاعت اور راہِ حق کی پَیروی میں اضافہ ہوتا تھا اور کرب و الم کی سوزشوں پر صبر میں زیادتی ہوتی تھی اور دشمنوں سے جہاد کرنےکی کوششیں بڑھ جاتی تھیں ۔ (جہاد کی صورت یہ تھی کہ) ہم میں کا ایک شخص اور فوج ِ دشمن کا کوئی سپاہی دونوں مردوں کی طرح آپس میں بھڑتے تھے اور جان لینے کے لئے ایک دوسرے پر جھپٹے پڑتے تھے، کہ کون اپنے حریف کو موت کا پیالہ پلاتا ہے ،کبھی ہماری جیت ہوتی تھی اور کبھی ہمارے دشمن کی۔

چنانچہ جب خدا وندِ عالم نے ہماری (نیتوں کی ) سچائی دیکھ لی تو اس نے ہمارے دشمنوں کو رسوا و ذلیل کیا اور ہماری نصرت و تائید فرمائی، یہاں تک کہ اسلام سینہ ٹیک کر اپنی جگہ پر جم گیا اور اپنی منزل پر برقرار ہو گیا۔ خدا کی قسم! اگر ہم بھی تمہاری طرح کرتے تو نہ کبھی دین کا ستون گڑتااور نہ ایمان کا تنا برگ وبار لاتا،خدا کی قسم! تم اپنے کئے کے بدلے میں دودھ کے بجائے ) خون دو ہو گے اور آخر تمہیں ندامت و شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔