جب آپ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کرنے کی نہ ٹھان لیں تو آپ نے فرمایا:

خدا کی قسم میں اس بجوّ کی طرح نہ ہوں گا جو لگاتار کھٹکھٹائے جانے سے سوتا ہوا بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طلب گار (شکاری) اس تک پہنچ جاتا ہے اور گھات لگا کر بیٹھنے والااس پر اچانک قابو پالیتا ہے ،بلکہ میں تو حق کی طرف بڑھنے والوں اور گوش پر آواز اطاعت شعاروں کو لیکر ان خطاو شک میں پڑنے والوں پر اپنی تلوار چلاتا رہوں گایہاں تک کہ میری موت کا دن آجائے ۔ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے اپنے رسول کو دنیا سے اٹھایا برابر دوسروں کو مجھ پر مقدم کیا گیا اور مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا۔