صفین کے دنوں میں اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے:

اے گروہِ مسلمین ! خوفِ خدا کو اپنا شعار بناؤ۔ اطمینان وقار کی چادر اوڑھ لو، اور اپنے دانتوں کو بھینچ لو اس سے تلواریں سروں سے اچٹ جایا کرتی ہیں، زرّہ کی تکمیل کرو (یعنی اس کے ساتھ خودجوشن بھی پہن لو) اور تلواروں کو کھینچنے سے پہلے نیاموں میں اچھی طرح ہلا جُلا لو۔ اور دشمن کو ترچھی نظروں سے دیکھتے رہو اور دائیں جائیں (دونوں طرف ) نیزوں کے دار کرو اور دشمن کو تلواروں کی باڑ پر رکھ لو، اور تلواروں کے ساتھ ساتھ قدموں کو آگے بڑھاؤ، اور یقین رکھو کہ تم اللہ کے رُو بُرو، اور رسول ﷺ کے چچا زاد بھائی کے ساتھ ہو

 باربار حملہ کرو اور بھاگنے سے شرم کرو، اس لئے کہ یہ پشتوں تک کے لئے ننگ و عار اور روزِ محشر جہنم کی آگ کا باعث ہے۔ خوشی سے اپنی جانیں اللہ کو دے دو اورپُر اطمینان رفتار سے موت کی جانب پیش قدمی کرو ،اور (شامیوں کی ) اس بڑی جماعت اور طنابوں سے کھنچے ہوئے خیمے کو اپنے پیشِ نظر رکھو ، اور اس کے وسط پر حملہ کرو، اس لئے کہ شیطان اسی کے ایک گوشے میں چھپا بیٹھا ہے جس نے ایک طرف تو حملے کےلئے ہاتھ بڑھایا ہوا ہے اور دوسری طرف بھاگنے کےلئے قدم پیچھے ہٹا رکھا ہے ۔ تم مضبوطی سے اپنے ارادے پر جمے رہو یہاں تک کہ حق(صبح کے ) اجالے کی طرح ظاہر ہو جائے۔ (نتیجہ میں ) تم ہی غالب ہو، اور خدا تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہارے اعمال کو ضائع و برباد نہیں ہونے دے گا۔