پیغمبر ﷺ کی رحلت کے بعد جب سقیفہ بنی ساعدہ کی خبریں امیرالموٴمنین علیہ السلام تک پہنچیں ، توآپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ انصار کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ ایک ہم میں سے امیر ہوجائےاور ایک تم میں سے، حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ:

“تم نے یہ دلیل کیوں نہ پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور جو برا ہو اس سے درگذر کیا جائے.،،

لوگوں نے کہا کہ اس میں ان کے خلاف کیا ثبوت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ: اگر حکومت و امارت ان کے لئے ہوتی تو پھر ان کے بارے میں دوسروں کو وصیت کیوں کی جاتی ۔

 پھر حضرت نے پوچھا کہ قریش نے کیا کہا؟ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے شجرہ رسول ﷺ سے ہونے کی وجہ سے اپنے استحقاق پر استدلال کیا،تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ: انہوں نے شجرہ ایک ہونے سے تو استدلال کیا، لیکن اس کے پھلوں کو ضائع و برباد کر دیا۔