اہل عراق کی مذمت میں فرمایا:

اے اہل عراق! تم اس حاملہ عورت کے مانند ہو جو حاملہ ہونے کے بعد حمل کے دن پورے کرے، تو مرا ہوا بچہ گرادے اور اس کا شوہر بھی مر چکا ہواور رنڈا پے کی مدت بھی دراز ہو چکی ہو اور (قریبی نہ ہونے کی وجہ سے ) دُور کے عزیز ہی اس کے وارث ہوں۔

بخدا میں تمہاری طرف بخوشی نہیں آیا، بلکہ حالات سے مجبور ہو کر آگیا ۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم کہتے ہو کہ علی علیہ السلام کذب بیانی کرتے ہیں، خدا تمہیں ہلاک کرے (بتاؤ) میں کسی پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں، کیا اللہ پر ! تو میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والاہوں یا اس کے نبی پر ؟ میں سب سے پہلے ان کی تصدیق کرنے والاہوں ۔

خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں! بلکہ وہ ایک ایسا اندازِ کلام تھا جو تمہارے سمجھنے کا نہ تھا اور نہ تم میں اس کے سمجھنے کی اہلیت تھی ،خدا تمہیں سمجھے ۔ میں تو بغیر کسی عوض کے (علمی جواہر ریزے) ناپ ناپ کر دے رہا ہوں، کاش کہ ان کے لئے کسی کے ظرف میں سمائی ہوتی ، (ٹھہرو ) کچھ دیر بعد تم بھی اس کی حقیقت کو جان لوگے۔