اگر اللہ نے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی گرفت سے تو وہ ہرگز نہیں نکل سکتااور وہ اس کی گزر گاہ اور گلے میں ہڈی پھنسنے کی جگہ پر موقع کا منتظر ہے ۔

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، یہ قوم (اہل شام) تم پر غالب آکر رہے گی۔ اس لیے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے بلکہ اسی لیے کہ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔

رعتیں اپنے حکمرانوں کے ظلم وجور سے ڈرا کرتی تھیں اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔ میں نے تمہیں جہاد کے لیے ابھار ا ، لیکن تم (اپنے گھروں سے ) نہ نکلے ۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کے لیے پکارا اور للکارا، لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں ۔

 کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو، حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو، میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو ۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کے لیے تمہیں آمادہ کرتا ہوں، تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولاد سبا کی طرح تتر بتر ہو ہو گئے ۔ اپنی نشست گاہوں کی طرف واپس چلے جاتے ہو اور ان نصیحتوں سے غافل ہو کر ایک دوسرے کے چکمے میں آجاتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہوتو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے ۔ سیدھاکرنے والا عاجز آگیا اور جسے سیدھا کیا جارہا ہے وہ لاعلاج ثابت ہوا ،

اے وہ لوگو! جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں۔ ان پر حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں۔ تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو، اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے ، جس طرح دینار کا تبادلہ در ہموں سے ہوتا ہے

اے اہل کوُفہ میں تمہاری تین اور ان کے علاوہ دو باتوں میں مبتلا ہوں ،پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو اور بولنے چالنے کے باوجود گونگے ہو اور آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے ہواور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقعہ پر سچے جوانمرد ہو اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔ اے ان اونٹوں کی چال ڈھال والو کہ جن کے چرواہے گم ہو چکے ہوں اور انہیں ایک طرف سے گھیر کر لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سے بکھر جاتے ہیں۔ خدا کی قسم! جیسا کہ میرا تمہارے متعلق خیال ہے ،گویا یہ منظر میرے سامنے ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کر لے اور میدان کا راز گرم ہو جائے ، تو تم ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایسے شرمناک طریقے پر علیحدہ ہو جیسے عورت بالکل برہنہ ہو جائے ۔ میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل اور اپنے نبی کے طریقے اور شاہراہ حق پر ہوں(جسے میں باطل کے راستوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاتا رہتا ہوں۔

 اپنے نبیﷺ کے اہل بیت کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلواور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو، وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے ۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں ، تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں، تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ، ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔

 میں نے محمدﷺکے خاص خاص اصحاب دیکھے ہیں ، مجھے تو تم میں سے ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا، جو ان کے مثل ہو ،وہ اس عالم میں صبح کرتے تھے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے خاک سے اٹے ہوتے تھے جب کہ رات کو وہ سجو و قیام میں کاٹ چکے ہوتے تھے ،اس عالم میں کہ کبھی پیشانیاں سجدے میں رکھتے تھے اور کبھی رخسار اور حشر کی یاد سے اس طرح بے چین رہتے تھے کہ جیسے انگاروں پر ٹھہرے ہوئے ہوںاور لمبے سجدوں کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانیوں پر) بکری کے گھٹنوں ایسے گٹے پڑے ہوئے تھے ۔ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر آجاتا تھا تو ان کی آنکھیں برس پڑتی تھیں یہاں تک کہ ان کے گریبانوں کو بھگو دیتی تھیں ۔ وہ اس طرح کانپتے رہتے تھے جس طرح تیز جھکڑ والے دن درخت تھر تھر اتے ہیں سزا کے خوف اور ثواب کی امیدمیں۔