معاویہ کی طرف:

تم اس وقت کیا کرو گے جب دنیا کے یہ لباس جن میں لپٹے ہوئے ہو تم سے اتر جائیں گے ۔ یہ دنیا جو اپنی سج دھج کی جھلک دکھاتی اور اپنے حظ و کیف سے ور غلاتی ہے۔ جس نے تمہیں پکار ا تو تم نے لبیک کہی ۔اس نے تمہیں کھینچا تو تم اس کے پیچھے ہو لیے، اوراس نے تمہیں حکم دیا تو تم نے اس کی پیروی کی۔ وہ وقت دور نہیں کہ بتانے والاتمہیں ان چیزوں سے آگاہ کرے کہ جن سے کو ئی سپر تمہیں بچا نہ سکے گی ۔ لہٰذا اس دعویٰ سے باز آجاؤ ، حساب و کتا ب کا سر و سامان کرو، اور آنے والی موت کے لیے دامن گردان کر تیار ہو جاؤ، اور گمراہوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ اگر تم نےایسا نہ کیا، تو پھر میں تمہاری غفلتوں پر (جھنجھوڑ کر ) تمہیں متنبہ کروں گا۔ تم عیش و عشرت میں پڑے ہو ۔شیطان نے تم میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ وہ تمہارے بارے میں اپنی آرزوئیں پوری کر چکا ہے۔ اور تمہارے اندر روح کی طرح سرایت کر گیا ہے ا ورخون کی طرح (رگ و پے میں ) دوڑرہا ہے ۔

اے معاویہ! بھلاتم لوگ (امیہ کی اولاد ) کب رعیت پر حکمرانی کی صلاحیت رکھتے تھے، اور کب امت کے امور کے والی و سر پرست تھے؟ بغیر کسی پیش قدمی اور بغیر کسی بلند عزت و منزلت کے ہم دیرینہ بدبختیوں کے گھر کر لینے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ میں اس چیز پر تمہیں متنبہ کئے دیتا ہوں کہ تم ہمیشہ آرزوؤں کے فریب پر فریب کھاتے ہو، اور تمہارا ظاہر باطن سے جدا رہتا ہے۔

تم نے مجھے جنگ کے لیے للکارا ہے تو ایسا کرو کہ لوگو ں کو ایک طرف کردو اور خود (میرے مقابلے میں) باہر نکل آؤ۔ دونوں فریق کو کشت و خون سے معا ف کرو تاکہ پتہ چل جائے کہ کس کے دل پر زنگ کی تہیں چڑھی ہوئی اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے ۔میں (کوئی اور نہیں) وہی ابو الحسن ہوں کہ جس نے تمہارے نانا ،تمہارے ماموں اور تمہارے بھائی کے پر خچے اڑا کر بدر کے دن مارا تھا۔ وہی تلوار اب بھی میرے پاس ہے اور اسی دل گردے کے ساتھ اب بھی دشمن سے مقابلہ کرتا ہوں ۔نہ میں نے کوئی دین بدلاہے ،نہ کوئی نیا نبی کھڑا کیاہے۔ اور میں بلاشبہ اسی شاہراہ پر ہوں جسے تم نے اپنے اختیار سے چھوڑ رکھا تھا اور پھر بہ مجبوری اس میں داخل ہوئے ۔

اور تم ایسا ظاہر کرتے ہو کہ تم خونِ عثمان کا بدلہ لینے کو اٹھے ہو، حالانکہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کا خون کس کے سرہے ۔اگر واقعی بدلہ ہی لینا منظور ہے تو انہیں سے لو ۔اب تو وہ (آنے )والامنظر میری آنکھوں میں پھر رہا ہے کہ جب جنگ تمہیں دانتوں سے کاٹ رہی ہو گی اور تم اس طرح بلبلاتے ہو گے ،جس طرح بھاری بوجھ سے اونٹ بلبلاتے ہیں اور تمہاری جماعت تلواروں کی تابڑ توڑمار ،سر پر منڈلانے والی قضا  اور کشتوں کے پشتے لگ جانے سے گھبرا کر مجھے کتابِ خدا کی طرف دعوت دے رہی ہو گی ۔حالانکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کافر اور حق کے منکر ہیں یا بیعت کے بعد اسے توڑ دینے والے ہیں۔