معاویہ کے خط کے جواب میں :

 تمہارا یہ مطالبہ کہ میں شام کا علاقہ تمہارے حوالے کردوں،تو میں آج وہ چیز تمہیں دینے سے رہا کہ جس سے کل انکار کر چکا ہوں ۔اور تمہار ا یہ کہنا کہ جنگ نے عرب کو کھا ڈالاہے اور آخر ی سانسوں کے علاو ہ اس میں کچھ نہیں رہا، تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جسے حق نے کھایا ہے وہ جنت کو سدھارا ہے ،اور جسے باطل نے لقمہ بنایا ہے وہ دوزخ میں جا پڑا ہے ۔رہا یہ دعویٰ کے ہم فنِ جنگ اور کثرتِ تعداد میں برابر سر ابر کے ہیں، تو یاد رکھو تم شک میں اتنے سرگرم عمل نہیں ہو سکتے جتنا میں یقین پر قائم رہ سکتا ہوں ۔اور اہل شام دنیا پر اتنے مرمٹے ہوئے نہیں جتنا اہل عراق آخر ت پر جان دینے والے ہیں۔

اور تمہارا یہ کہنا کہ ہم عبد مناف کی اولاد ہیں، تو ہم بھی ایسے ہی ہیں۔ مگر امیہ، ہاشم کےاور حرب ،عبدالمطلب کے اور ابو سفیان، ابو طالب کے برابر نہیں ہیں۔ (فتح مکہ کے بعد ) چھوڑ دیا جانے والامہاجر کا ہم مرتبہ نہیں۔ اور الگ سے نتھی کیا ہوا روشن و پاکیزہ نسب والے کی مانند نہیں اور غلط کار حق کے پرستار کا ہم پلہ نہیں ۔ اور منافق مومن کا ہم درجہ نہیں ہے۔ کتنی بری نسل وہ نسل ہے جو جہنم میں گر چکنے والے اسلاف کی ہی پیروی کر رہی ہے ۔

پھر اس کے بعد ہمیں نبوت کا بھی شرف حاصل ہے کہ جس کے ذریعے ہم نے طاقتور کو کمزور، اور پست کو بلند و بالاکر دیا اور جب اللہ نے عرب کو اپنے دین میں جوق در جوق داخل کیا اور امت اپنی خوشی سے یا ناخوشی سے اسلام لے آئی تو تم وہ لوگ تھے کہ جو لالچ یا ڈر سے اسلام لائے ،اس وقت کہ جب سبقت کرنے والے سبقت حاصل کر چکے تھے ،اور مہاجرین اوّلین فضل وشرف کو لے جاچکے تھے۔

(سنو) شیطان کا اپنے میں ساجھا نہ رکھو اور نہ اسے اپنے اوپر چھاجانے دو ۔