روایت ہے کہ امیرالمومنین کے قاضی شریح ابن حارث نے آپ کےدور خلافت میں ایک مکان اسی دینار کو خرید کیا۔ حضرت کو اس کی خبر ہوئی توانھیں بلوا بھیجا اورفرمایا :

مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نےایک مکان اسی دینا کو خرید کیا ہےاوردستاویز بھی تحریر کی ہے اوراس پر گواہوں کی گواہی بھی ڈلوائی ہے ؟شریح نےکہا کہ جی ہاں یا امیرالمومنین ! ایسا ہوا تو ہے ۔(راوی کہتا ہے)۔ اِس پر حضرتؑ نے اُنھیں غصہ کی نظر سے دیکھا اورفرمایا :دیکھو ! بہت جلدی ہی وہ (ملک الموت )تمہارے پاس آ جائے گا جو نہ تمہاری دستاویز دیکھے گا ،اورنہ تم سے گواہوں کو پوچھے گا ،اوروہ تمہارا بوریا بستربندھوا کریہاں سے نکل باہر کرے گا ،اورقبر میں اکیلاچھوڑدے گا ۔اے شریح دیکھو ! ایسا تونہیں کہ تم نے اس گھر کو دوسرے کے مال سے خریدا ہو۔ یا حرام کی کمائی سے قیمت ادا کی ہو ۔اگرایسا ہو توسمجھ لو کہ تم نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔

دیکھو! اس کی خریداری کے وقت تم میرے پاس آئے ہوتے، تومیں اس وقت تمہارے لیے ایک ایسی دستاویز لکھ دیتا ،کہ تم ایک درہم بلکہ اس سے کم کو بھی اس گھر کے خریدنے کوتیار نہ ہوتے۔

وہ دستاویز یہ ہے: یہ وہ ہے جو ایک ذلیل بندے نے ایک ایسے بندے سے کہ جو سفر آخرت کے لیے پادر رکاب ہے خرید کیا ہے ۔ایک ایسا گھر کہ جو دنیا ئےپرُ فریب میں مرنے والوں کے محلے اورہلاک ہونے والوں کے خطہ میں واقع ہے۔ جس کے حدودِ اربعہ یہ ہیں۔ پہلی حد آفتوں کے اسباب سے متصل ہے۔ دوسری حد مصیبتوں کے اسباب سے ملی ہوئی ہے۔ اورتیسری حد ہلاک کرنے والی نفسانی خواہشوں تک پہنچی ہے ۔اورچوتھی حد گمراہ کرنے والے شیطان سے تعلق رکھتی ہے ۔اوراسی حد میں اس کا دروازہ کھلتا ہے ۔

اس فریب خوردہ امید وآرزو نے اس شخص سے کہ جسے موت دھکیل رہی ہےاس گھر کو خریدا ہے ۔اس قمیت پر کہ اس نے قناعت کی عزت سے ہاتھ اٹھایا اورطلب وخواہش کی ذلت میں جا پڑا۔ اب اگراس سودے میں خریدارکوکوئی نقصان پہنچے، توبادشاہوں کے جسم کو تہ وبالاکرنے والے،گردن کشوں کی جان لینے والے ،اورکسریٰ وقیصر اور تبع وحمیرایسے فرمانرواؤں کی سلطنتیں الٹ دینے والے ،اورمال سمیٹ سمیٹ کر اسے بڑھانے، اونچے اونچے محل بنانےسنوارنے ،انھیں فرش وفروش سے سجانے ، اور اولاد کے خیال سے ذخیرے فراہم کرنے اورجاگیریں بنانے والوں سے سب کچھ چھین لینے والے کے ذمہ ہے کہ وہ  ان سب کو لے جا کر حساب وکتاب کے موقف اورعذاب وثواب کے محل میں کھڑا کرے۔ اس وقت کہ جب حق وباطل کا دو ٹوک فیصلہ ہوگا  اورباطل والے وہاں خسارے میں رہیں گے۔

گواہ شد برایں عقل : جب خواہشوں کے بندھن سےالگ اوردنیا کی وابستگیوں سے آزاد ہو۔