ایک عامل کے نام :

میں نے تمہیں اپنی امانت میں شریک کیا تھا ،اور تمہیں اپنا بالکل مخصوص آدمی قرار دیا تھا اور تم سے زیادہ ہمدردی ،مددگاری اور امانتداری کے لحاظ سے میرے قوم قبیلہ میں میرے بھروسے کا کوئی آدمی نہ تھا ۔لیکن جب تم نے دیکھا کہ زمانہ تمہارے چچا زاد بھائی کے خلاف حملہ آور ہے اور دشمن بھپرا ہوا ہے۔امانتیں لٹ رہی ہیں اور امت بے راہ اور منتشر و پراگندہ ہو چکی ہے تو تم نے بھی اپنے ابن عم سے رخ موڑ لیا ،اور ساتھ چھوڑ دینے والوں کے ساتھ تم نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ،اور خیانت کرنے والوں میں داخل ہو کر تم بھی خائن ہو گئے ۔اس طرح نہ تم نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ ہمددردی ہی کا خیال کیا ،نہ امانت داری کے فرض کا احساس کیا ۔

گویا اپنے جہاد سے تمہارا مدعا خدا کی رضامندی نہ تھا اور گویا تم اپنے پروردگا ر کی طرف سے کوئی روشن دلیل نہ رکھتے تھے اور اُس امت کے ساتھ اُس کی دنیا بٹورنے کے لئے چال چل رہے تھے ۔اور اس کا مال چھین لینے کے لئے غفلت کا موقع تاک رہے تھے ۔چنانچہ جب اُمت کے مال میں بھرپور خیانت کرنے کا موقع تمہیں ملا،تو جھٹ سے دھاوا بول دیا اور جلدی سے کود پڑے اور جتنا بن پڑا اس مال پر جو بیواؤں اور یتیموں کے لئے محفوظ رکھا گیا تھا ،یوں جھپٹ پڑے جس طرح پھرتیلابھیڑیا زخمی اور لاچار بکری کو اُچک لیتا ہے، اور تم نے بڑے خوش خوش اُسے حجاز روانہ کر دیا ،اور اُسے لے جانے میں گناہ کا احساس تمہارے لئے سد راہ نہ ہوا ۔

خدا تمہارے دشمنوں کا برُا کرے ،گویا یہ تمہارے ماں باپ کا ترکہ تھا ،جسے لے کر تم نے اپنے گھر والوں کی طرف روانہ کر دیا ۔اللہ اکبر! کیا تمہارا قیامت پر ایمان نہیں ؟کیا حساب کتاب کی چھان بین کا ذرا بھی ڈر نہیں ؟اے وہ شخص جسے ہم ہوش مندوں میں شمار کرتے تھے ،کیونکر وہ کھانا اور پینا تمہیں خوش گوار معلوم ہوتاہے جس کے متعلق جانتے ہو کہ حرام کھا رہے ہو اور حرام پی رہے ہو۔تم اُن ہتیموں ،مسکینوں ،مومنوں اور مجاہدوں کے مال سے جسے اللہ نے ان کا حق قرار دیا تھا اور اُن کے ذریعہ سے ان شہروں کی حفاظت کی تھی ،کنیزیں خریدتے ہو ،اور عورتوں سے بیاہ رچاتے ہو ۔

اب اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں کا مال انہیں واپس کر و ۔اگر تم نے ایسا نہ کیا اور پھر اللہ نے مجھے تم پر قابو دے دیا ،تو میں تمہارے بارے میں اللہ کے سامنےاپنے کو سرخرو کروں گا ،اور اپنی اس تلوار سے تمہیں ضرب لگاؤں گا ،جس کا وار میں نے جس کسی پر بھی لگایا، وہ سیدھا دوزخ میں گیا ۔خدا کی قسم  اگرحسن و حسین علیھماالسلام بھی وہ کرتے جو تم نے کیا ہے تو میں اُن سے بھی کوئی رعایت نہ کرتا اور نہ وہ مجھ سے اپنی کوئی خواہش منو اسکتے ،یہاں تک کہ میں اُن سے حق کو پلٹا لیتا ،اور ان کے ظکم سے پیدا ہونے والے غلط نتائج کو مٹا دیتا ۔

میں رب العالمین کی قسم کھاتا ہوں کہ میرے لئے یہ کوئی دل خوش کن بات نہ تھی کہ وہ مال جو تم نے ہتھیا لیا ،میرے لئے حلال ہوتا اور میں اُسے بعد والوں کے لئے بطور ترکہ چھوڑ جاتا ،ذرا سنبھلو اور سمجھو کہ تم عمر کی آخری حد تک پہنچ چکے ہو اور مٹی کے نیچے سونپ دیئے گئے ہو ،اور تمہارے تمام اعمال تمہارے سامنے پیش ہیں ،اس مقام پر کہ جہاں ظالم واحسرتاہ کی صدا بلند کرتا ہوگا ،اور عمر کو برباد کرنیوالے دنیا کی طرف پلٹنے کی آرزو کر رہے ہونگے ،حالانکہ اب گریز کا کوئی موقع نہ ہو گا ۔