عامِلِ کوفہ ابو موسیٰ اشعری کے نام:

جب حضرتؑ کو خبر پہنچی کہ وہ اہل کوفہ کو جنگ کے سلسلہ میں جبکہ آپ نے اُنہیں مدد کے لئے بلایا تھا روک رہا ہے۔

خدا کے بندے علی امیر المومنینؑ کی طرف سے عبداللہ ابن قیس(ابو موسیٰ) کے نام :

مجھے تمہاری طرف سے ایسی بات کی خبر ملی ہے جو تمہارے حق میں بھی ہو سکتی ہے اور تمہارے خلاف بھی پڑ سکتی ہے ۔جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو(جہاد کے لئے)دامن گردان لو،کمر کس لو اور اپنے بِل سے باہر نکل آؤاور اپنے ساتھ والوں کو بھی دعوت دو ۔اور اگر حق تمہارے نزدیک ثابت ہے تو کھڑے ہو ،اور اگر بودا پن دکھانا ہے تو(ہماری نظروں سے)دور ہو جاؤ۔

خدا کی قسم تم گھیر گھار کر لائے جاؤگے خواہ کہیں بھی ہو ،اور چھوڑے نہیں جاؤ گے یہاں تک کہ تم اپنی دو عملی کی وجہ سے بوکھلااٹھو گے اور تمہارا سارا تارپود بکھر جائے گا ۔یہاں تک کہ تمہیں اطمینان سے بیٹھنا بھی نصیب نہ ہو گا ۔اور سامنے سے بھی اسی طرح ڈرو گے جس طرح اپنے پیچھے سے ڈرتے ہو۔ جیسا تم نے سمجھ رکھا ہے یہ کوئی آسان بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک بڑی مصیبت ہے ،جس کے اونٹ پر بہرحال سوار ہونا پڑے گااور اسکی دشواریوں کو ہموار کیا جائے گا اور اس پہاڑ کو سر کیا جائے گا ۔

لہذا اپنی عقل کو ٹھکانے پر لاؤ، اپنے حالات پر قابو حاصل کر و،اپنا حظ و نصیب لینے کی کوشش کرو اور اگر یہ ناگوار ہے تو اُدھر دفان ہو جہاں نہ تمہارے لئے آؤ بھگت ہے نہ تمہارے لئے چھٹکارے کی کوئی صورت ۔اب یہی مناسب ہے کہ تمہیں بے ضرورت سمجھ کر نظرانداز کیا جائے ۔مزے سے سوئے پڑے رہو۔کوئی یہ بھی تونہ پوچھے گا کہ فلاں ہے کہاں ۔خدا کی قسم یہ حق پرست کا صحیح اقدام ہے اور ہمیں بے دینوں کے کرتوتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہو سکتی۔ ۔والسلام۔