عبداللہ ابن عباس کے نام:

یہ خط اِس سے پہلے دوسری عبارت میں درج کیا جا چکا ہے ۔

بندہ کبھی اس شےکو پا کر خوش ہونے لگتا ہے جو اس کے ہاتھ سے جانے والی تھی ہی نہیں ۔اور ایسی چیز کی وجہ سے رنجیدہ ہوتا ہے جو اُسے ملنے والی ہی نہ تھی ۔لہذا لذت کاحصول اور جذبۂ انتقام کو فرو کرنا ہی تمہاری نظروں میں دنیا کی بہترین نعمت نہ ہو ،بلکہ باطل کو مٹا نا اور حق کو زندہ کرنا ہو ۔اور تمہاری خوشی اس ذخیرہ پر ہونا چاہئے جو تم نے آخرت کے لئے فراہم کیا ہے۔ اور تمہارا رنج اس سرمایہ پر ہونا چاہئے جسے صحیح مصرف میں صرف کئے بغیر چھوڑ رہے ہو ۔اور تمہیں فکر موت کے بعد کی ہونا چاہئے۔