جب آپ کو ابن ملجم لعنہ اﷲ ضربت لگا چکا تو آپ ؑ نے حسن ؑو حسین ؑ سے فرمایا :

میں تم دونوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اﷲ سے ڈرتے رہنا ، دنیا کے خواہشمند نہ ہونا ، اگرچہ وہ تمہارے پیچھے لگے اور دنیا کی کسی ایسی چیز پر نہ کڑھنا جو تم سے روک لی جائے ، جو کہنا حق کے لئے کہنا ، اور جو کرنا ثواب کے لئے کرنا ۔ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگا بنے رہنا ۔

 میں تم کو ،اپنی تمام اولاد کو، اپنے کنبہ کو اور جن جن تک میرا یہ نوشتہ پہنچے سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اﷲسے ڈرتے رہنا ، اپنے معاملات درست اور آپس کے تعلقات سلجھائے رکھنا ، کیو نکہ میں نے تمہارے نانا رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ آپس کی کشیدگیوں کو مٹانا ،عام نماز روزہ سے افضل ہے ۔(دیکھو) یتیموں کے بارے میں اﷲ سے ڈرتے رہنا ان کا کام و دہن کے لئے فاقہ کی نوبت نہ آئے اور تمہاری موجودگی میں وہ تباہ و برباد نہ ہو جائیں ۔اپنے ہمسائیوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرتے رہنا کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے پیغمبر ﷺ نے برابر ہدایت کی ہے اور آپؐ اس حد تک ان کے لئے سفارش فرماتے رہے کہ ہم لوگوں کو یہ گمان ہونے لگا کہ آپ انہیں بھی ورثہ دلائیں گے ۔

 قرآن کے بارے میں اﷲسے ڈرتے رہنا ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں ۔ نماز کے بارے میں اﷲسے ڈرنا کیو نکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے ۔ اپنے پروردگار کے گھر کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اسے جیتے جی خالی نہ چھوڑنا کیونکہ اگر یہ خالی چھوڑ دیا گیا ، تو پھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے ۔ جان، مال اور زبان سے راہ خدا میں جہاد کرنے کے بارے میں اﷲکو نہ بھولنا اور تم کو لازم ہے کہ آپس میں میل ملاپ رکھنا اور ایک دوسرے کی اعانت کرنا۔اور خبر دار ایک دوسرے کی طرف سے پیٹھ پھیرنے اور تعلقات توڑنے سے پرہیز کرنا ۔نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے کبھی ہاتھ نہ اٹھانا ور نہ بد کردار تم پر مسلط ہو جائیں گے ۔ پھر دعا مانگو گے تو قبول نہ ہوگی ۔

(پھر ارشاد فرمایا ) اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہونے پائے کہ تم ” امیر المومنین ؑ قتل ہوگئے ،امیرالمومنین ؑ قتل ہو گئے ” کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کردو۔ دیکھو میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیا جائے اور دیکھو !جب میں اس ضرب سے مر جاؤ ں تو اس ایک ضرب کے بدلے میں ایک ہی ضرب لگانا ۔ اور اس شخص کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا ، کیونکہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خبر دار کسی کے بھی ہاتھ پیر نہ کاٹو، اگرچہ وہ کاٹنے والاکتا ہی ہو ۔