جب لڑنے کے لیے دشمن کے سامنے آتے تھے تو بارگاہ الہی میں عرض کرتے تھے:

 بارالہا!دل تیری طر ف کھنچ رہے ہیں، گردنیں تیری طرف اٹھ رہی ہیں ،آنکھیں تجھ پر لگی ہوئی ہیں ،قدم حرکت میں آچکے ہیں اوربدن لاغرپڑ چکے ہیں ۔ بارالہا!چھپی ہوئی عداوتیں ابھر آئیں ہیں اور کینہ و عناد کی دیگیں جوش کھانے لگی ہیں۔ خداوند! ہم تجھ سے اپنے نبیؐ کے نظر وں سے اوجھل ہوجانے،اپنے دشمنوں کے بڑھ جانے اور اپنی خواہشوں میں تفرقہ پڑ جا نے کا شکوہ کرتے ہیں۔ پرور دگار !تو ہی ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان سچائی کے ساتھ فیصلہ کر۔ اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے وال ہے