اَےکتاب علم وحکمت، اَے بلاغت کی سبیل ہے فروغ چہرا معنی تَرانقش جمیل
 باده توحید سے لبریز ہے تیرا با غ جلوہ گر افکار میں تیرے رسالت کا دماغ
رشحہ الهام ہے ہر نقطہ زیبا تَرا ہے زلال وحی کا ساغر تَرا  ہر دائره
روشنائی میں تری با تجلّى موجزن ہے تری ہر سطر تسبیح ذوالمنن
توادب کی جان ہے تو فلسفہ کا تاج ہے نقش پائے فکر تیرا غیرکی معراج ہے

دولت ایماں ہے تو مسلم کا سرمایہ ہے تو

باب شہر علم کی جنسِ گراں مایہ ہے تو

آج بھی ہے تازہ و رنگیں ترے معنی کا باغ دہرَ کے حکمت کدے میں تو ہے اک روشن چراغ
تیرے استدلال کی تیشوں سے باطل دلفگار صحن قرآن تیری تشریحات سے ہے پْربہار
خرمنِ الحادپر تیری شعاعیں قہر ریز کفر و بدعت سے ہے تجھ کو دعوت روم دستیز
ہیں عدد کے واسطے تیرے اشارے ذوالفقار حیدری ضربت کا آئینہ ترے فقروں  کا وار

دیو باطل کیلئے تو آتشیں صَمصام ہے

فتنہ تثلیث تجھ سے لرزہ براندام ہے

تیری تشریحات ہیں روشنگرِ حق و صواب چہرہ ادہام سے تو نے الٹ دی ہے نقاب
دفتر صد حکمت و معنی ہے تیرا ہر وَرق تجھ سے سیکھا ہے زمانے نے سیاست کا سبق
دانش آموزِ خرد ہیں تیرے اَمثال و حِکَمْ تیرے جملوں میں ہے نبضِ زندگی کا زیر و بم
ہے تصوف مست تیرے ساغر گلفام کا ہے ترا مرہونِ منت فلسفہ اسلام کا
اَفصحانِ دہر سر دُھنتے ہیں تیرے ساز پر خَیمہ زَن تیری بلاغت سرحدِ اعجاز پر
شِقشِقَہ تیرے بیاں میں اَخطب اسلام کا ہَمہَمہ زورِ خطابت میں ترے ضرغام کا

آج بھی ہے عصرِ نو محتاج پانی کا ترے

اب بھی طغیانی پہ ہے دریا معانی کا ترے

قیصر امروہوی