بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال جعفر بن محمد الصادق ع علماء شیعتنا مرابطون فی الثغر الذی یلی إبلیس و عفاریته یمنعهم [یمنعونهم‏] عن الخروج على ضعفاء شیعتنا ۔۔۔

 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے شیعہ علماء ان سرحدوں پر کھڑے محافظ ہیں جہاں سے ابلیس اور اس کی فوج  ہمارے کمزور شیعوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور یہ علماء ان شیعوں  کا دفاع کرتے ہیں۔(میزان الحکمت جلد 6)

مقام و منزلتِ علماء میں آیات و روایات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔مذکورہ بالا حدیث کے مطابق علماء کو تشیع کی سرحدوں کا محافظ کہا گیا ہے۔کبھی وارثِ انبیاء کے عنوان سے یاد کیا گیا اور کبھی اس خزانہ  علم کا امین قرار دیا گیا۔امام جعفر صادق علیہ السلام بارہا ان علماء کے قلم کی روشنائی کو شہداء کے خون سے وزنی قرار دیتے ہیں۔

ان علماء کی محنتوں اور کاوشوں کو اور ان کے حالات ِ زندگی کو  بیان کرنے کے لئے  سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔   ان علماء کی زندگیوں کے مطالعہ سے خود دین کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کونسا مقصد و ھدف تھا جس کی خاطر  ان بزرگان نے اپنی ساری زندگیاں  صرف کر دیں اور کبھی ضرورت پڑی تو جان بھی مشن کی نذر کر دی۔ان کے حالاتِ زندگی کے مطالعہ سے جوان علما ء کو کام کا سلیقہ بھی معلوم ہوتا ہے اور حوصلہ بھی بڑھتا ہے۔اور قوم کو علماء کی قربانیوں کا پتہ بھی چلتا ہے

عربی اور فارسی میں علماء کے حالات پر سینکڑوں کتابیں لکھی  گئیں۔جن میں سےچند مشہور کتابیں  درج ذیل ہیں۔قصص العلماء مرزا محمد تنکابنی۔روضات الجنات محمد باقر موسوی خراسانی۔نجوم السماء فی تراجم العلماء۔ریاض العلماء۔امل الامل۔شھداء الفضیلۃ۔ مجالس المؤمنین۔اعیان الشیعہ محسن امین۔گلشنِ ابرار ۔فوائد الرضویہ شیخ عباس قمی۔مفاخرِ اسلام۔۔الذریعہ الی ٹسانیف الشیعہ۔

برصغیر کے  شیعہ علماء کے تذکرے بھی اردو زبان میں مختلف ادوار میں لکھے جاتے رہے۔اس وقت اردو میں  مارکیٹ میں  درج ذیل  کتابیں   علماء کے حالات  پر  مہیا ہیں۔

مطلع الانوار  مولانامرتضی حسین صاحب صدر الافاضل۔ یہ کتاب 772 صفحات پر مشتمل ہے یہ 1982 میں لکھی گئی اوراس میں بر  صغیرکے تقریبا 900 علماء کے تذکرے موجود ہیں۔ خورشید خاور میں اس کےفارسی ترجمہ  کا ذکر کیا گیا ہے  کی اس کافارسی ترجمہ حجۃ الاسلام آقای الہی مشہدی نے کیا ہے اور بنیادِ پژوہشہای اسلامی کی طرف سے شائع ہوا ہے۔

تذکرہ علماء امامیہ مولانا سید حسین عارف نقوی اور سید محمد ثقلین کاظمی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔یہ کتاب 376 صفحات پر مبنی ہے  اور 1982 میں مکمل ہوئی اور اس میں 308 علماء کے حالات  درج ہیں۔اس میں فقط پاکستان  کے علماءکا تذکرہ ہے۔

خورشید خاور مولانا سید سعید اختر رضوی۔یہ کتاب 468 صفحات پر مبنی ہے اور اس میں پونے چار سو کے قریب علماء کے حالاتِ زندگی درج ہیں۔ یہ کتاب 10 جولائی 2000 میں مکمل ہوئی۔اس کتاب میں زیادہ تر مشرقی ہندوستان کے علماء کے حالات بیان ہوئے ہیں  اور چند دیگر علماء کے تذکرے بیان ہوئے۔

مولانا سید سعید اختر رضوی نے علماء کے حالات پر لکھی گئی 15 کتابوں کا ذکر کیا ہے اور پرانے ماہناموں کے نام بھی درج کئے ہیں جن میں مختلف ادوار کے علماء کے حالات نقل کئے گئے ہیں۔

مرکزِ احیاءِ تراث برصغیر(مآب) مولانا طاہر عباس اعوان صاحب۔مولانا نے بڑی جانفشانی سے اس ادارہ کو قائم کیا اور قم میں ان کے مرکز کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔برصغیر کے علماء کے حالات ہی نہیں ان کی محنتوں اور کارناموں کو انہوں نے جمع کیا اور مرکز کی طرف سے چند مجلوں میں علماء کی ان کاوشوں کو درج کیا۔ اس مرکز سے بہت سی توقعات وابستہ  ہیں دعا ہے پروردگار مولانا کو صحت وسلماتی عطا فرمائے اور ان کا فعال گروہ ہمیشہ یونہی اس مشن کو لے کر تیزی سے آگے بڑھتا رہے۔۔

مرکز افکار اسلامی کی کوشش ہو گی کہ آسمانِ علم کے ان ستاروں کی چمک کو سامنے لایا جائے اور تاریکی کے اس دور میں ان سے کچھ اجالا حاصل کیا جائے۔ان شخصیات کے یہی تذکرے  شاید جوان علماء کی ہمتوں میں اضافے  اور سمتوں  کے متعین کرنے میں مددگار بنیں۔