سید عارف حسین حسینی ( 1325ہجری شمسی/1946عیسوی ـ 1367ہجری شمسی /1988عیسوی) پاکستانکے شیعہ علماء میں سے اور تحریک جعفریہ کے قائد تھے۔ انھوں نے نجف اور قم میں معارف اہل بیتکے اکابرین سے فیض حاصل کیا۔ وہ نجف میں امام خمینی کے شاگردوں میں سے تھے۔ وہ پاکستان میں عوام کے مذہبی، ثقافتی اور عبادی ضروریات فراہم کرنے کے علاوہ صحت اور معیشت کے لحاظ سے بھی ان کے مسائل کو حل کرتے تھے۔ وہ 5 اگست سنہ 1988 کو پشاور میں نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔
نسب اور مولد
سید عارف حسین بن سید فضل حسین 25 نومبر 1946 عیسوی کو پاکستان کے شمال مغرب میں واقع شہر پاراچنار کے نواحی گاؤں پیواڑ کے ایک مذہبی اور علمی اور سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گاؤں پیواڑ پاک ـ افغان سرحد پر واقع ہے جس میں “غُنڈی خیل”، “علی زئی” اور “دوپر زئی” نامی قبائل آباد ہیں۔ سید عارف حسینی پختونوں کے طوری قبیلے کی شاخ “دوپرزئی” سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب شاہ شرف بو علی قلندر بن سید فخر ولی تک پہنچتی ہے جن کا نسب شرف الدین بوعلی شاہ قلندر ابن ابوالحسن فخر عالم تک پہنچتا ہے۔ بو علی شاہ کا مدفن ہندوستان کا شہر پانی پت اور فخر عالم کا مدفن پاراچنار کا نواحی گاؤں کڑمان ہے۔ چونکہ ان کا سلسلۂ نسب حسین الاصغر ابن علی بن الحسین(ع) تک پہنچتا ہے، لہذا ان کا خاندان “حسینی” کے عنوان سے مشہور ہے۔[1] ان کے آباء و اجداد ـ جن میں سے متعدد افراد علمائے دین اور مبلغین میں سے تھے ـ اسلامی معارف و تعلیمات کی ترویج کی غرض سے پیواڑ اور قریبی علاقوں میں سرگرم عمل تھے۔
حالات زندگی
سید عارف حسین حسینی نے اپنی طفولت کا دور اپنے آبائی گاؤں میں گذارا اور قرآن کریم اور ابتدائی دینی تعلیمات اپنے والد کے حضور مکمل کرلیں۔ ان کے والد بھی علماء میں سے تھے۔ وہ بعدازاں اسکول میں داخل ہوئے اور پرائمری اور متوسطہ کے بعد پاراچنار کے ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1964 میں ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہوئے اورمدرسہ جعفریہ پاراچنار میں “لقمانخیل” کے گاؤں “یوسف خیل” کے رہنے والے حاجی غلام جعفر سے دینی علوم میں حصول فیض کا آغاز کیا اور مختصر سے عرصے میں عربی ادب سیکھنے کا مرحلہ طے کیا۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی اور وہ علاوہ ازاں فارسی، عربی اور اردو پر عبور رکھتے تھے۔[2]
نجف میں شہید علامہ سید عارف حسین حسینی سنہ 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف ـ اور بعدازاں قم ـ میں عربی ادب کے نامور استاد مدرس افغانی کے ہاں عربی ادب کے تکمیلی مراحل طے کئے اور ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے۔
امام خمینی(رح) سے واقفیت
وہ نجف میں آیت اللہ مدنی کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور ان کے توسط سے امام خمینی کی شخصیت اور کارناموں سے واقف ہوئے۔[3]۔[4] سنہ 1873 عیسوی میں انقلابی سرگرمیوں میں شراکت کے الزام میں عراق کی بعثی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے قید میں رکھا اور کچھ عرصہ بعد ملک بدر کیا۔
وطن واپسی اور شادی
وہ اپنے آبائی وطن میں پلٹ کر آئے اور 10 مہینوں تک پاراچنار میں تبلیغ دین میں مصروف عمل رہے۔ انھوں نے اسی عرصے میں ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔[5]
قم میں حصول علم کا تسلسل
سنہ 1974 عیسوی میں انھوں نے دوبارہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے اور نجف جانے کا فیصلہ کیا لیکن حکومت عراق نے انہیں ویزا دینے سے انکار کیا؛ چنانچہ وہ اسی سال قم روانہ ہوئے اور حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ شہید استاد مرتضی مطہری،مکارم شیرازی، وحید خراسانی، میرزا جواد تبریزی، محسن حرم پناہی، اور سید کاظم حائری سے فلسفہ، کلام، فقہ، اصول اور تفسیر جیسے مضامین میں کسب فیض کیا۔
ایران سے ملک بدری
قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے لہذا انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہیں ایک ضمانت نامہ دستخط کے لئے پیش کیا گیا “کہ وہ مظاہروں میں شرکت نہیں کریں گے، انقلابی قائدین کی تقاریر میں شرکت نہیں کریں گے اور انقلابی راہنماؤں سے ربط ضبط نہیں رکھیں گے” لیکن انھوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا چنانچہ جنوری سنہ 1979 عیسوی میں انہیں ایران چھوڑ کر پاکستان واپس جانا پڑا۔
وطن واپسی
وہ سنہ 1979 سے 1974 عیسوی تک مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس میں مصروف رہے۔ وہ جمعرات کے دن مدرسہ جعفریہ سے پشاور جاکر جامعۂ پشاور میں اخلاق اسلامی کی تدریس کیا کرتے تھے۔[6]
پیواڑ میں شہید عارف حسین حسینی کا مزار
پاراچنار میں شہید عارف حسین حسینی کا مزار
پاکستان میں امام خمینی کے نمائندے
سید عارف حسین حسینی پاکستان میں امور حسبیہ اور وجوہات شرعیہ میں امام خمینی کے نمائندے اور وکیل تھے۔ وی نمایندهامام خمینی(ره) در امور حسبیه و وجوه شرعی در پاکستان بود.[7]۔۔[8]
شہادت
علامہ سید عارف حسین حسینی مورخہ 5 اگست سنہ 1988 عیسوی کو اپنے مدرسے “دارالمعارف الاسلامیہ میں نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کرگئے۔
امام خمینی(رح) کا پیغام
امام خمینی نے شہید کے جنازے میں شرکت کے لئے ایک وفد پاکستان روانہ کیا اور ان کی شہادت کے موقع پر پاکستان کے علماء اور قوم و ملت کے نام ایک مفصل پیغام جاری کیا،[9] اور انہیں اپنا “فرزند عزیز” قرار دیا۔[10] ادھر پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے بھی ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ پشاور جاکر شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ آیت اللہ جنتی بھی ایک اعلی سطحی ایرانی وفد کی سربراہی میں پشاور پہنچے اور نماز جنازہ کی امامت کی۔ بعدازاں شہید کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی شہر منتقل ہوئی اور ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں پیواڑ میں ہوئی۔


1. رضاخان، سفیر نور، ص23۔
2. نقوى، تذكره علماى امامیه پاكستان، ص 155، 159۔
3. رضاخان، سفیر نور، ص33۔
4. نقوى، تذکرہ علمای پاکستان، ص155۔
5. رضاخان، سفیر نور، ص44۔
6. رضاخان، سفیر نور، ص56ـ57۔
7. صحیفه امام ج14 ص506۔
8. موضوع: مجوز استفاده از سهم امام (ع) در امور تبلیغات اسلامی در پیشاور پاکستان؛ مخاطب: سید عارف حسین، حسینی۔
9. صحیفه امام ج 21، ص 119۔
10. صحیفه امام ج 21، ص 121۔