پیکر علم و عمل – علامہ سید محمد باقر نقوی چکڑالوی

آئینہ حیات

نام:–علامہ سید محمد باقر نقوی چکڑالوی

ولدیت :- مولاناسید گل محمد شاہ

ولادت :-یکم رمضان المبارک ۱۲۹۴ ھ۱۸۸۱ ء

وفات :-۱۹ صفر المظفر ۱۳۸۶، ۹ جون ۱۹۶۶

مدفن :–کہاوڑ ضلع بھکر

ادوار حیات:

۱۸۸۱ ۔ ۱۹۰۹–سکول و مدرسہ کی تعلیم حاصل کی

۱۹۰۹ ۔ ۱۹۱۴–عربی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات

—اورینٹل کالج میں تدریس

—نجف اشرف کا سفر

۱۹۱۴ ۔ ۱۹۲۵–چکڑالہ میں تدریس

۱۹۲۵ ۔ ۱۹۴۴–چک ۳۸ خانیوال میں تدریس

۱۹۴۵ ۔ ۱۹۶۶–بدھ رجبانہ جھنگ میں تدریس

Allama Baqir Naqvi Hindi

پیش لفظ:

یوں تو انسان کی زندگی کاہرہر لمحہ بہت قیمتی ہے کیونکہ یہ وہ نعمت الٰہی ہے جو ہر وقت شکر کی مقتضی ہے تاہم بعض لمحات ایسےبھی ہوتے ہیں جو حاصل زیست بن جاتے ہیں ۔ایسا ہی ایک لمحہ وہ تھا کہ جب جامعہ المصطفی العالمیہ اسلام آباد کے مسئول حجۃ الاسلام مولانا انیس الحسنین خان نے مجھ سے رابطہ کیااور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ علامہ سید باقر نقوی اعلیٰ اللہ مقامہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کوئی کام کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہے کہ اس پروگرام کوراقم آرگنائز کرے۔

مجھے یقین کامل ہے کہ یہ میرے والدین کی دعاؤں کا اثر تھا کہ اس عظیم عالم کی خدمات کے تذکرے کے لیے میری خدمات کو شرف قبولیت حاصل ہوا۔

مذکورہ پروگرام کو ترتیب دیتے وقت ایک فیصلہ یہ بھی ہوا کہ علامہ مرحوم کی زندگی سے متعلق ایک کتاب شائع کی جائے۔باہمی مشاورت کےنتیجے میں یہ طے پایا کہ اگرچہ ان کے اکثر شاگرد اس جہان فانی سے انتقال کر گئے ہیں، لیکن پھر بھی چند ایسے حضرات بقید حیات ہیں جنہوں نے ان سے کسب فیض کیا ہے۔ان سے رابطہ کر کے معلومات اکٹھی کی جائیں۔ ہم نے یہ بھی طے کیا کہ سنی سنائی باتیں جمع نہ کی جائیں بلکہ ان لوگوں سے معلومات لی جائیں جو کہیں کہ ہم نے خود ان سے سنا یا ان کو دیکھا اور ہم خود اس محفل میں موجود تھے۔رابطہ کرنے کے بعد ان کے شاگردوں میں سے کچھ افراد ملے جنہوں نے خود ان سے یا ان کی موجودگی میں ان کے فرزندان ارجمند سے کسب علم کیا پھر میں نے خود دوستوں کے ہمراہ دورہ کیا سب کو ملا،انٹرویو کیے جو آج بھی ریکارڈنگ کی صورت میں مفصل موجود ہیں۔المختصر سرگودھا، جھنگ، خانیوال،بھکر کےپے در پے سفر کے نتیجے میں جو معلومات مل سکیں ان کو تحریری شکل میں پیش کیاجا رہا ہے۔

ہم نے جن لوگوں سے معلومات حاصل کیں ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

1.-حجۃ الاسلام علامہ محمد حسین نجفی سرگودھا

2.-محترم جناب مولانا سید حسن علی عرف جانے یا علی کنڈ سرگانہ

3.-محترم جناب مولانا مقبول حسین ڈھکو جھنگ

4.-محترم جناب مولانا رفیق بدھ رجبانہ جھنگ

5.-محترم جناب مولانا محمد نواز کربلائی جھنگ

6.-محترم جناب سید سجاد حسین نقوی چک ۳۸ خانیوال

7.-محترم جناب سید محمد صادق نقوی چک ۲۳ کھاوڑ بھکر

8.-محترم جناب مرید کاظم خان بلوچ کوٹلہ جام

ہم ان تمام حضرات کے شکر گزار ہیں کہ جن کی عطا کردہ معلومات کے نتیجہ میں ہم مومنین کے حضور روز و شب کے دھندلکے سے کچھ یادگار مناظر پیش کرنے کے قابل ہوئے۔

دعا ہے خداوند متعال جامعۃ المصطفی العالمیہ کے مسئول کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے اور ہم سب کو اپنے اسلاف کی خدمات کو یادرکھنے اور ان سےفیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

ظفر عباس شہانی

جامعۃ الکوثر اسلام آباد

انتساب

اپنے شفیق والدین اوران مہربان اساتذہ کے نام جن کی صحیح تربیت کی بدولت میں آج اس عظیم پیکر علم و عمل کی باتیں اور اس سے مربوط یادیں مومنین ذوی الاحترام کی خدمت میں پیش کرنے کے قابل ہوا ۔

ظفر عباس شہانی (ستمبر ۲۰۱۳)

ولادت

استاذالعلما ء حضرت علامہ سید محمد باقر نقوی یکم رمضان المبارک ۱۲۹۴ ھ کو بمقام چکڑالہ ضلع میانوالی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے

ابتدائی تعلیم

آپ کو بچپن ہی سے حصول علم کا بے حد شوق تھا۔ چنانچہ پرائمری تک مقامی سکول میں تعلیم حاصل کی۔صرف و نحو کی ابتدائی کتب اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا سید طالب حسین سے پڑھیں اوراسی طرح مولانا محمد عیسیٰ کے رو برو بھی زانوئے تلمذ تہ کیا جو فرقہ اہل قرآن کے بانی عبداللہ چکڑالوی کے صاحبزادے تھے۔

تکمیل تحصیلات

علامہ سید محمد باقر نقوی کی تشنگئ علم دور کرنے کے لیے مقام اور سائل ناکافی تھے جبکہ آپ کا شوق حصول علم بے پایاں تھا۔چنانچہ یہی شوق آپ کو حضرت مولانا شریف حسین کے پاس جگراؤں ضلع لدھیانہ لے گیا۔ وہاں تحصیل علم کیا پھر لکھنؤ میں بھی کچھ عرصہ رہے۔اسکے بعد اورنٹیل کالج لاہور آگئےاور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ۱۹۰۹ ء میں مولوی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سےپاس کیا۔منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا ۔کچھ عرصہ اورنٹیل کالج میں مدرس بھی رہے۔

اس کے بعدنجف اشرف تشریف لے گئے۔نجف اشرف میں کچھ عرصہ قیام کیااگرچہ نجف اشرف کی فضا انہیں بے حد پسند آئی تھی اور ان کا وہاں سے واپسی کا ارادہ نہ تھا تاہم جب نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابو الحسن اصفہانی ؒ سے ملاقات ہوئی، تبادلہ افکار ہو اتو انہوں نے حکم دیا کہ واپس اپنے وطن جائیں اور وہاں خدمت کریں جس پر قبلہ بہت اداس ہوئے لیکن مرجع کے حکم کی تعمیل میں واپس آگئے۔غالباً یہ ۱۹۱۴ کا زمانہ تھا کہ جب آپ نے سلسلہ درس وتدریس چکڑالہ میں ہی شروع کردیا۔

تاسیس مدارس

مدرسہ علمیہ چکڑالہ

علامہ مرحوم ترویج علوم محمد و آل محمدؐ کے عاشق تھے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم سے فراغت کے بعد زندگی کے آخری لمحات تک وہ تدریس میں مصروف رہے۔جیسا کہ راقم عرض کر چکا ہے کہ نجف اشرف میں مختصر قیام کے بعد آپ اس وقت کے مرجع اعظم کے حکم پر واپس تشریف لائے اور یہاں آتے ہی چکڑالہ میں دینی مدرسہ قائم کیا اور اپنی علمی صلاحیت سے قابل ذکر تعداد میں شاگرد جمع کر لیے یوں تقریباً بارہ سال تک آپ چکڑالہ میں تدریس فرماتے رہے اورلطف یہ ہے کہ مدرسہ میں طلباءبھی تھے تدریس بھی جاری تھی لیکن تعلیم و تعلم کے امور میں اس قدر مستغرق تھے کہ مدرسہ کا باقاعدہ نام تک نہ رکھا۔ مسجد کے قریب دو کمروں پر مشتمل ایک بے نام مدرسہ سے چشمہ فیض جاری ہوا۔

مدرسہ علمیہ چک ۳۸ خانیوال

علامہ مرحوم کوچہ کوچہ قریہ قریہ علم کی شمع سے روشن کرنے کے آرزو مند تھے ۔ آپ چاہتے تھے کہ دین محمد و آل محمد علیھم السلام گھر گھر پہنچے ۔یہی سبب تھا کہ آپ نے مختلف علاقوں کا سفر کیا اور جہاں موقعہ میسر آیا وہاں دینی مدرسے کے قیام کی کوشش کی ۔

مدرسہ علمیہ چک نمبر ۳۸ خانیوال ان ابتدائی مدارس میں سے ایک تھا جو علامہ مرحوم کی انتھک اور بے لوث دینی و علمی خدمات کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔

۱۹۲۵؁ یعنی قیام پاکستان سے تقریباً ۲۲ سال قبل آپ اس مدرسہ کو قائم کرنے کے لئے چک ۳۸ خانیوال تشریف لائے اور اس علاقے کے مومنین بالخصوص سادات کرام کو دینی مدرسہ کے قیام پر آمادہ کیا ۔علامہ مرحوم اس دور دراز علاقے میں شمع علم روشن کرنے کے اس قدر آرزو مند تھےکہ وہاں کے بچوں کو مدرسہ کے ماحول سے مانوس کرنے کے لئے کچھ طلبا بھی اپنے ہمراہ لائے تاکہ مدرسہ روز اول ہی سے آباد نظر آئے اور نئے طلباءکو مدرسہ کا ماحول اجنبی نہ لگے ۔

علامہ مرحوم کی اس حکمت عملی اور سچی لگن کے نتیجے میں گاؤں میں پہلے سے موجود مسجد آباد ہو گئی اور اس سے ملحقہ کمرے مدرسہ کہلانے لگے ۔ میرے نزدیک خدا کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت بھلا اور کیا ہو گا کہ اس مختصر بے وسائل مدرسہ کے پہلو سے علم و حکمت کے پھول کھلنے لگے ۔

جن کی خوشبو سے اس وقت کے غیر منقسم ہندوستان اورقیام پاکستان کے بعد وطن عزیز کا گوشہ گوشہ مہکنے لگا۔

مدرسہ علمیہ چک ۳۸ خانیوال وہ یاد گار مدرسہ ہے کہ جس سے صف اول کے بزرگ علمائے کرام نے کسب فیض کیا ۔اس مرحلے پر ا س تاریخ ساز حقیقت کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ علامہ مرحوم اپنے مقدس مشن سے اس قدر مخلص اور اپنے امو ر کا ر میں اس قدر مستغرق تھے کہ ان کے نزدیک مدرسہ کا نام کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا ۔ گویا ان کا یہ عمل بعد میں آنے والوں کے لئے ایک درس تھا کہ نام کی بجائے کام کو ہر حال میں مقدم جاننا چاہیے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس مدرسہ کے طلباءکے طعام کا بندو بست وہاں کےسادات کرام کیا کرتے تھے ۔

چک نمبر ۳۸ خانیوال میں یہ شمع علم ۱۹۲۵؁ سے ۱۹۴۵؁ یعنی تقریباً ۲۰ سال تک ضوفشاں رہی۔ افسوس کہ علامہ مرحوم کے ترک سکونت کے بعد وہاں کے سادات کرام اس یاد گار علمی مرکز کو حالات کی دست برد سے محفوظ نہ رکھ سکے اور یوں یہ مدرسہ جاری و ساری نہ رہ سکا ۔

مدسہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان

علامہ مرحوم و مغفور مدارس دینی کے قیام کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھتے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ آپ مختلف علا قوں کا بنظر عمیق جائزہ لیا کرتےتھے اور جہاں ذرا سا بھی امکان نظر آتا وہاں مدرسہ کے قیام کے لئے کو شاں ہو جاتے تھے ۔

شیعہ میانی ملتان کا ایک دور افتادہ و پسماندہ علاقہ تھا ۔یہاں مومنین کی کثیر تعداد آباد تھی ۔ تا ہم غربت اور تنگ دستی کے باعث ان کے لئے کسی دینی مدرسہ کا قیام محض ایک خواب تھا ۔ علامہ مرحوم ا س حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ لوگ دینی مدرسہ کے قیام کو اپنے لئے ایک معاشی بوجھ تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ مدرسہ علمیہ چک ۳۸ خانیوال میں قیام کے دوران جب آپ مولانا سید گلا ب علی شاہ صاحب کو مومنین کے علاقے شیعہ میانی ملتان روانہ کرنے لگے اور حسب روایت آپ نے چند طلباءکو بھی ان کے ہمرا ہ بھیجنے کی اطلاع دی تو علامہ مرحوم کی توقع کے عین مطابق شیعہ میانی کے مومنین نے اپنی تنگ دستی کو جواز بنایا اور تقابل کرتے ہوئے شہر ملتان کے وسط میں موجود مدرسہ باب العلم نسبتاً آسودہ حال مدرسہ کا ذکر کیا ۔ علامہ مرحوم کیونکہ شیعہ میانی ملتان کے مومنین کی سوچ سے آگاہ تھے لہٰذا آپ بہ نفس نفیس شیعہ میانی تشریف لے گئے اور وہاں کی امام بارگاہ میں تشریف فرما ہوئے ۔ شیعہ میانی کے مومنین علامہ مرحوم کا بے حد احترام کرتے تھے اور جب انہیں پتہ چلا کہ آپ شیعہ میانی تشریف لائے ہیں تو وہ سب کے سب آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔

علامہ مرحوم نے مدرسے کے قیام کی اہمیت و افادیت مختصراً بیان فرمائی اور اس سے پہلے کہ مومنین اپنی کم مائیگی کا تذکرہ کرتے آپ نے ان کے سروں پر دست شفقت پھیر ا اور دعا دیتے ہوئے فرما یا کہ کوئی مدرس یا طالب علم کسی پر بوجھ نہیں ہوتا بلکہ یہ سب مہمانان رسول مقبول ﷺ ہوتے ہیں ، تو کیا آپ لوگ نہیں چاہتے کہ رسول خدا ﷺ کے مہمان آپ کے مہمان بنیں اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ آپ میں سے ہر شخص محض ایک طالب علم کو کھا نا دے او ریہ میرے سامنے جو ذاکرین کی استراحت کے لئے اس امام بارگاہ میں کمرہ ہے اس میں طلباءقیام کریں ۔ پس نہ علیحدہ قیام کا کوئی جھنجٹ اور نہ ہی قیام کے لئے کسی بلڈنگ کی تعمیر کا مسئلہ !

ہاں !البتہ جب کو ئی ذاکر مجلس کے لئے آئے گا تو طلباءاس کے لئے جگہ بنا دیا کریں گے ، الغرض علامہ مرحوم نے اس علاقے کے مومنین کے تمام خدشات رفع کر دیئے ۔ اس لئے کہ آپ کی دور رس نگاہیں شیعہ میانی کا وہ تابناک مستقبل دیکھ رہی تھیں کہ جب یہ علاقہ شیعیان حیدر کرار کا مرکز ہو گا اور آسودگی و خوشحالی میں کسی بھی علاقے کے ہم پلہ ہو گا ۔

خدا گواہ ہے کہ علامہ مرحوم کی دور رس نگاہوں نے جو منظر اس عالم و یرانی و بد حالی میں دیکھا تھا کہ جب شیعہ میانی کو ملتان شہر کا نہایت دور افتاد ہ و پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے اور کچہری چوک سے آگے شہر ملتان سے شیعہ میانی جانے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک کے دونو ں اطراف اجاڑ ویران کھجوروں کے جھنڈ اور قبرستان کی خاموشی شروع ہو جایا کرتی تھی جبکہ شیعہ میانی بستی کے گندے پانی کا عین وسط میں واقع بڑا تالاب سارا سال اٹا رہتا تھا ،مچھر ،مکھی تنگ گلیوں اور کچے نیم پختہ مکانوں کے سامنے سے گندے پانی کی کھلی نالیوں کے باعث گلیوں میں چلنا دشوار ہو ا کرتا تھا ۔ایسے حالات میں علامہ مرحوم ہی کا عزم صمیم تھا کہ جس کی بد ولت مدرسہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان قائم ہو ا ،اور یوں قبلہ صاحب مؤسس مخزن العلوم الجعفریہ قرار پائے اور آپ کے قدموں کی برکت نے یہ اعجاز دکھایا کہ آ ج شیعہ میانی شہر ملتان سے نا صرف یہ کہ متصل ہے بلکہ اس کا نقشہ ہی یکسر بدل چکا ہے ۔اور مخزن العلوم جعفریہ وطن عزیز پاکستان کی قابل فخر اور ملت تشیع کی مایہ ناز دینی درسگاہ کے طور پر جانی پہنچانی جاتی ہے۔ اس عظیم دینی ادارے کا وجود آج ساکنان شیعہ میانی کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔

مدرسہ باقر العلوم بدھ رجبانہ (جھنگ)

۱۹۴۵ میں علامہ مرحوم خانیوال کی ساکنہ مائی جنداں سیال کی دعوت پر بدھ رجبانہ ضلع جھنگ تشریف لائے اور پھر زندگی کے آخری وقت تک یہاں قیام پذیر رہے۔یہاں پر بھی مسجد کے ساتھ دو ،تین کمروں پر مشتمل ایک مدرسہ بنایا گیا۔یہاں پر بھی بہت سے لوگوں نے آپ سے کسب فیض کیا اور جب تک وہ زندہ رہے اس مدرسہ کا باقاعدہ کوئی معین نام نہیں تھا۔یہاں پر طلبہ کا کھانا مائی جنداں مرحومہ کے گھر سے آتا تھا۔ان کی وفات کے بعد اس مدرسہ کو باقر العلوم کا نام دے دیا گیا۔الحمد للہ تادم تحریر یہ مدرسہ اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

مدرسہ باقر العلوم کوٹلہ جام

اس علمی مرکز کی تشکیل میں علامہ مرحوم کا بنیادی کردار ہے۔ جس کی روداد یہ ہے کہ بھکر میں کوئی دینی مدرسہ نہیں تھاعلاقہ کے مؤمنین سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق بھکر کے نشیب میں واقع نوانی گاؤں میں علم دوست لوگوں کا ایک اجتماع ہوا،اور ایجنڈا یہ تھا کہ بھکر میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جائے لیکن اس اجلاس میں بھکر شہر کے لوگ کہتے تھے کہ مدرسہ بھکر شہر میں بنایا جائے جبکہ سادات جھوک قلندر بخش نشیب پنجگرائیں اپنے پاس یہ مدرسہ بنانا چاہتے تھے۔کا فی غور و فکر کے بعدبھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اورنشست مؤخر کر دی گئی۔انہی ایام میں علامہ مرحوم اپنے انتہائی قریبی دوست حاجی الٰہی بخش مرحوم کے ہاں کوٹلہ جام تشریف لائے ۔اس وقت کوٹلہ جام میں ایک شیعہ مسجد تھی جو موجودہ مرکز سے تھوڑے فاصلے پر محلہ بلوچاں میں تھی۔الٰہی بخش مرحوم نے علامہ مرحوم سے عرض کیا کہ ہم اپنے گھر کے قریب(جہاں موجودہ مرکز ہے)مسجد بنوانا چاہتے ہیں ۔آپ اگر اجازت دے دیں۔قبلہ نے مسجد کی اجازت دی اس دوران قبلہ مرحوم کو بھکر میں مدرسہ قائم کرنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ آج کل پھر ایک اجلاس ہونے والا ہے ،علامہ مرحوم نے نوانی میں ہونے والے اجلاس میں کوٹلہ جام کے تین مومنین کو بھی شرکت کے لیے بھیجا اور اپنی رائے بھی دی کہ اگر مدرسہ کوٹلہ جام میں بنا دیا جائے تو بہتر ہےبالآخر طے پا گیا کہ مدرسہ کوٹلہ جام میں بنے گا۔

علامہ مرحوم نے اپنے شاگرد رشید مولانا عبدالحسین خان شہانی آف نوانی کو مسجد کا خطیب اور مدرس معین فرمایا،اس مدرسہ کی مسجد اور مدرسہ کی زمین مدرسہ کے پڑوسی سادات کرام اور کھہاوڑ قوم کے لوگوں نے عطیہ کی ،بعد میں علامہ مرحوم کی ذاتی لائبریری مدرسہ کو دی گئی جو آج تک وہاں موجود ہے۔ یہ مدرسہ آج بھی بحمداللہ خدمت دیں مبین اسلام میں مصروف عمل ہے۔

انداز تدریس

علامہ مرحوم خاص انداز تدریس کے مالک تھے۔آپ کے پاس صبح طلباء آتے تھے اور آپ کلاس شروع کر دیتے تھے، کتب کو رٹانے کی بجائےفنّی علوم پر ان کی نگاہ ہوتی تھی۔کہ آیا طالب علم عبارت کو سمجھ بھی رہا ہے یا نہیں۔ ایک دفعہ ان سے سوال کیا گیاکہ آیاعبارت کا معنی جاننا ضروی ہے یا نحوی قوانین کا جاننا ضروری ہے تو فرمایاکہ دونوں لازم وملزوم ہیں، پھر سوال کیا کہ ان میں سے مقدم کون سا ہے اور مؤخر کون سا تو فرمانے لگے ان میں تلازم ایسا ہے کہ تقدم و تأخر کا فرق مشکل ہے ۔

آپ کا اسلوب تدری یہ تھا کہ درس سے پہلے عبارت ضرور پڑھواتے اور بہت محنت کرتے تھے۔ زیادہ تر خود تدریس فرماتے تھے ۔جبکہ ابتدائی طلبا کو پڑھانے کی ذمہ داری ان کے فرزندان کی تھی۔

طرز زندگی

علامہ مرحوم کالہجہ بہت دھیمہ تھاآپ کو کسی نے کبھی کسی کے ڈیرے پر جاتے نہیں دیکھا ۔ جب کبھی جگرانواں ٹرین پرجاتے توتھرڈ کلاس کاٹکٹ لیتےتھے۔آپ کا دوکمروں پر مشتمل بغیر برآمدہ کا ایک گھرتھا جس کے دونو ں کمرے کچے تھے۔آپ کا اپنا قیام زیادہ تر مدرسہ کے ایک کچے کمرہ میں ہوتا تھا۔

آپ کا پورا خاندان ایک ہی چوپال میں رہتاتھا۔لطیف مزاج کے مالک تھے ۔انتہائی کم گو تھے۔گھر بہت کم تشریف لاتے تھے۔اپنے کمرے میں ہی رہتے تھے۔اپنےبیٹے سید زین الدین حسین کی شادی میں ان کے ہمراہ فقط انکی والدہ کوبھیجا ۔

یتیمان آل محمد کے ساتھ انتہائی اخلاق سے پیش آتے تھے ہر ایک کی عزت کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے اپنے پرائے سب آپ کی عزت کرتے تھے۔

مہمان داری اپنے گھر سے کرتے تھے مدرسے سے نہیں کرتے تھے۔محبوب غذا مسور کی دال تھی۔ بال لمبےرکھتے تھے۔نماز کے وقت پگڑی باندھتے تھے۔

کھدر اور ملیشیا کا لباس زیب تن کرتے ۔سردیوں میں سر پر ٹوپی پہنتے تھے۔

دستخط میں لکھتے تھے(قاصر محمد باقر)۔

خاموش طبع اور نرم مزاج تھے۔

نماز کی امامت خود کرواتےتھے۔صبح کی نماز کے بعد مجلس پڑھتے تھے۔

طلباء کےساتھ انتہائی شفیق تھے۔کبھی ان کو ناراض ہوتے نہیں دیکھا، نہ ہی کوئی غیض وغضب دیکھا ۔ایک مرتبہ طالب علم کی کسی غلطی پر ناراض ہوئے ،اور اس کو ڈانٹا تو کچھ ہی دیر بعد بلا کر معذرت کی کہ میں نے تمہیں ڈانٹا ہے۔

اگر علاقے کا کوئی دنیاوی مسئلہ ہوتا تواس کا فیصلہ آپ کے فرزند سید ناصر الدین کرتے تھے۔

سراپا،پہناوا اور غذا:

آپ کمزور اور نحیف جسم کے مالک تھے ۔درمیانہ قد تھا سفید ریش تھی ۔ پگڑی باندھتے تھے ایک مرتبہ جوتے کو پیوند لگانے کے لیے موچی کے پاس لے گے تو اس نے کہا کہ اب تو پیوند لگانے کی جگہ بھی نہیں ہے ۔خاکی کھدر کا لباس پہنتے تھے۔ناشتے میں لسی اور باسی روٹی کے چند لقمے ہوتے تھے۔ قبلہ صاحب کاکھانا ان کےاپنے گھرمیں تیار ہوتا تھااور اگر کبھی سالن میں لذت محسوس فرماتے تو فوراً پانی ملا لیا کرتے تھے۔

عزاداری

اکثر اوقات تنہائی میں ذکر مصائب کرتےاور بہت گریہ فرماتےاورباآواز بلند روتے۔ عربی فارسی مرثیہ کے علاوہ سرائیکی مرثیہ بھی پڑھتے تھے۔محرم کی مجالس جگرانواوں میں پڑھتے تھے۔

آپ عربی /فارسی کتاب کا پہلے متن پڑھتے پھر ترجمہ کرتے اورمصائب بیان کرتے ہوئےاس طرح گریہ فرماتے کہ جیسے کسی جوان پر ماتم ہو رہاہو ۔ علامہ مرحوم عام مجالس میں شرکت نہیں فرماتے تھے۔

آخر عمر میں گھرمیں مجلس پڑھتے تھے۔محرم کاپوراعشرہ گھرمیں پڑھتےتھے۔ہمیشہ ان الدین عنداللہ الاسلام ان کا موضوع سخن ہوتا تھا۔وعظ ،فضائل اور مصائب میں کتاب کا حوالہ دے کر متن پڑھا کرتے تھے۔

اپنے گھر کی چاردیواری میں مجلس پڑھتے۔آیت اور روایت کا متن پڑھ کر ترجمہ کرتے مصائب بھی حوالہ دے کر پڑھتےلیکن گریہ اتنافرماتے کہ زیادہ دیر تک نہ پڑھ سکتے ۔یکم سے گیارہ محرم تک اپنے گھر میں مجلس پڑھتے تھے ۔سامعین بھی خا ص ہوتے تھے وعظ و نصحیت بھی زیادہ کرتے تھے ۔ ہر نماز کےبعد تعقیبات اداکرتے تھے۔اور اس کے بعد مصائب ضرور پڑھتے تھے اور گریہ بھی کرتے جاتے تھے۔یعنی عزاداری ان کی تعقیبا ت کاحصہ تھی۔ اس کے بعد عربی و فارسی مرثیہ زیادہ پڑھتے تھے۔

امام بارگاہ میں مجلس ہوتی تھی ۔قبلہ مرحوم شرکت نہیں فرماتے تھے۔ البتہ جتنے بھی ذاکر اور خطیب مجلس کے لیے آتے وہ قبلہ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے تھے۔

ایک دفعہ قبلہ صاحب کو وضو کرانےکے لیے نماز شب کے وقت طالب علم کمرہ میں داخل ہوا تو قبلہ صاحب جاگ رہے تھے اور مرثیہ پڑھ رہے تھے اور گریہ و زاری کی آواز بلند تھی حالانکہ وہاں کوئی آدمی موجود نہ تھا تب طالب علم نے لالٹین جلائی اور دیکھا توقبلہ صاحب سر پر رومال رکھ کر گریہ کر رہے تھے طالب علم نے قدموں پر ہاتھ رکھا تواسی دوران بس اتنا فرمایا’’ اچھا، اب بس‘‘ ، جب طالب علم نےاصرار کیاکہ یہ گریہ کی آواز کہاں سے آرہی تھی تو فرمایا کہ انسانوں کی طرح جن بھی مومن ہوتےہیں، صبح آتے ہیں ۔میں چند اشعار سنا دیتا ہوں وہ اپنی عبادت کر کے چلے جاتے ہیں۔

مولوی محمدیار مرحوم باب العلوم ملتان کے مدرس تھے ،صدر الافاضل تھے، بڑے لائق تھے۔قبلہ مرحوم ان کے پاس مہمان تھے۔ایک رات ان کو گوشت سبزی کا سالن دیا و ہ ہرلقمے پر نمک اور پھر سالن لگاتے اور فرماتے کہ نمک میرے لیے مکمل سالن ہے جب دوران کھانا معلوم ہوا کہ اس میں گوشت ہے تو سالن چھوڑ دیا بعد میں پتہ چلا کہ جب بھی وہ سفر زیارت پر روانہ ہوتے ہیں تو گوشت نہیں کھاتے تھے ۔قبلہ صاحب کی صحت نے جب تک ساتھ دیا وہ کربلائے معلی جاتے رہے۔

دعا و مناجات:

مفاتیح الجنان کی اکثر دعائیں قبلہ کو حفظ تھیں۔دعائے کمیل زبانی پڑھتے تھے۔قرآن مجید کی اکثر سورتیں قبلہ کو حفظ تھیں۔

تقویٰ و پرہیز گاری

افضل الذکر لاالہ الااللہ کا عام ورد کرتے تھے۔قبلہ صاحب مستحبات باقاعدہ اداکرتے تھے۔نماز کی امامت خود کراتے تھے۔ہر جمعہ ظہرین کے بعد وعظ فرماتے تھے۔۵ٍ۱رکعت نماز کی پابندی کرتے تھے۔

حافظ کفایت حسین مرحوم خود فرماتے تھے کہ قبلہ صاحب نے فرمایا تھا کہ ہر روز دو پارے قرآن کی تلاوت کیا کرو۔یہ نصیحت کچھ اس انداز میں کی گئی کہ میں نے اپنے ساتھ عہد کیا کہ اب ہر روزدوپارے کی تلاوت ضرور کرو ں گا قبلہ مرحوم غیبت سے کما حقہ اجتناب فرماتے تھے۔ملک غلام اکبر اعوان آف بوچھال راوی ہے کہ ایک مرتبہ علامہ سید محمد یار نقوی مرحوم اور ملک سلطان علی ننگیانہ مرحوم کے درمیان کچھ ناراضگی ہو گئی قبلہ مرحوم کوپتہ چلا تو بونگہ جھمٹ ضلع خوشاب تشریف لائے اور وہاں آکر پیر سید فضل حسین شاہ کو بھی بلوایا ۔قبلہ مرحوم نے پیرصاحب مرحوم کو حکم دیا کہ آپ جلال پور تشریف لے جائیں اور وہاں علامہ سید محمد یا ر شاہ اور ننگیانہ صاحب کےدرمیان صلح کروائیں۔وہ وہاں تشریف لے گئے اور واپس آکر قبلہ مرحوم کوتفصیل بتانا چاہی تو قبلہ مرحوم نے ٹوک کر فرمایا کہ فقط اتنا بتائیں کہ صلح ہوئی ہے یا نہیں تفصیل بیان نہ کریں یعنی قبلہ صاحب طرفین کے الزامات سننے کے لیے تیا ر نہیں تھے۔ جب پیر صاحب نے دوبارہ بتانے کی کوشش کی توبھی سننے کےلیے تیار نہ ہوئے ۔تب پیر صاحب مسجد میں چلے گئے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ متقی عالم او ر فقط متقی کےدرمیان کتنا فرق ہے ۔ایک دفعہ مولانا سید گلاب علی شاہ نے قبلہ مرحوم سے کہا کہ پیر فضل شاہ نے ایک بات کی ہے جومجھے ناگوار گزری ہے تو قبلہ مرحوم نے فرمایا کہ بس چھوڑدو۔وہ پرہیز گار آدمی ہے ذکر نہ کرو۔ انسان ہے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے تو انہوں نے مولانا گلاب علی شاہ کو اس بات کا ذکر کرنے سے روک دیا۔

مولاناسید عبدالستار آف جھوک قلندر بخش جو قبلہ کے شاگرد رشید تھے۔مجالس بھی پڑھتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ عبدالستار کبھی قربۃ الی اللہ مجلس بھی پڑھی ہے؟تو انہوں نے فرمایا قبلہ میں ہمیشہ اپنے خرچہ پر جاتاہوں کبھی کوئی لالچ دنیا نہیں کیا تو قبلہ نے جواب میں فرمایا کہ قربۃ الی اللہ کے لیے یہی کافی نہیں ہے، یہ بتاؤکبھی دل میں افسوس ہوا کہ آج مجلس نہیں بنی ؟ تو جواب میں عرض کیا کہ قبلہ یہ تو ہوتا ہے۔ توقبلہ نے فرمایا کہ پھر یہ معاملہ قربۃ الی اللہ کا تو نہ ہوا ۔

یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ اگر کوئی شخص اموال واجبہ قبلہ صاحب کودیتا تو وہ اسی دن مختلف مقامات پر منی آرڈر بھیج دیتے تھے۔اور ایک رات بھی اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ایک دفعہ مغرب کا وقت تھااذان ہونے والی تھی۔وضو کےلیےپانی منگوایا اور اپنے شاگرد محمد رضا خان سے پوچھا کہ محمدرضا رقم منی آرڈر کر دی ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا قبلہ آج ڈاکخانہ نہیں جاسکا ۔فرمایا فوراً جاؤ اور ابھی رقم ڈاکخانہ پہنچا کر آؤ۔ اس وقت وہ بہت بے سکون ہوگئے کہ رقم آج روانہ کیوں نہ ہوئی ۔جب وفات ہوئی تو ان کے پاس کسی بھی قسم کا اموال واجبہ موجود نہیں تھا۔فقط چار سو روپے موجود تھے اوران کے بارے میں بھی فرما رکھا تھا کہ جب فوت ہوجاؤں تو دفن کے بعد اس کوتقسیم کر دینا۔

قبلہ صاحب کےایک دوست ڈاکٹر طفیل صاحب جو لاہور رہتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے مجبور کیا کہ آپ لاہور تشریف لائیں اور مجلس پڑھیں۔در حقیقت اس مجلس کا اصل بانی کوئی اور سیدتھااور جرمنی میں سفیر تھامجلس سن کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے اور اصرار کیا کہ محرم کی مجالس بھی ان کے ہاں پڑھیں قبلہ صاحب نے فرمایا کہ محرم تو میں اپنے گھر پڑھتاہوں۔کافی اصرار کےبعد صاحب عزاء نےایک چیک بک نکالی اور کہا کہ آپ جتنا چاہیں ا س میں رقم لکھ لیں لیکن محرم پڑھ دیں جس پر قبلہ صاحب فوراً کھڑے ہوگئے اور تیور بدل گئےاور جن کے پاس قیا م پذیر تھے انہیں حکم دیا کہ مجھے ابھی واپس پہنچا ؤ اور اس شام سے پہلے واپس گھر کو روانہ ہوگئے۔یہ واقعہ ۱۹۶۱ ء کاہے۔صاحب عزا نے آپ کی روانگی کے بعد دس ہزار روپے بذریعہ ڈاک بھیجے ایک طالب علم وہ رقم لے کر قبلہ کے پاس آیا اور پوچھنے پر بتایا کہ لاہور میں آپ نے جو مجلس پڑھی تھی انہوں نے یہ رقم بھیجی ہے جس پر قبلہ صاحب بہت ناراض ہوئے اور حکم دیا کہ یہ رقم فوراً واپس بھیج دو ۔

احتیاط اور زہد کی منزل یہ تھی کہ کتب حفظ ہونے کے باوجودجب کوئی شرعی مسئلہ آتا تو عروۃ الوثقیٰ یا وسیلۃ النجاۃ کی طرف رجوع فرماتے اور عین عبارت نقل فرماتے۔نماز پنجگانہ کی امامت خود فرماتےاور نمازیوں کی سہولت مختصر آیات قرآن پڑھتے تھے۔

رات کو سونے سے پہلے تعقیبات کے اختتام پر بطور خاص فرماتے کہ میری چار پائی کو غور سے دیکھو کہ صحیح قبلہ رخ ہے یا کہ نہیں ؟اور پھر فرماتےکہ حقیقی امت کی پہچان یہ ہے کہ جو عارضی زندگی کی بجائےآخر ی اور ابدی زندگی پر نگاہ رکھے۔نیند بھی موت کی طرح ہے کہ واقعی موت آجائے تو میں قبلہ رخ سویا ہوں۔

ایک دفعہ جناب مولانا حافظ سیف اللہ مرحوم ان کے پاس تشریف لائےتو قبلہ علامہ نے پوچھا کہ حافظ صاحب کہاں رہتے ہیں تو حافظ صاحب نے جواب دیا کہ قبلہ لیّہ کے قریب کچھ زمینیں ہیں وہاں رہتا ہوں تو جواب میں علامہ نے فرمایا کہ سیف اللہ محتاط رہنا وہاں اشتمال ہوئی ہے اور پٹواریوں کی ہیرا پھیری سے غریب لوگوں کے اچھے رقبے کسی اور کو منتقل ہو گئے ہیں تو حافظ صاحب نے کہا قبلہ زمین تو ہمیں وہیں ملی ہے تو علامہ نے جواب دیا کہ آپ کیسے وہاں کاشت کاری کر کے روزی کماتے ہیں اگر میں ہوتا تو مسواک کی لکڑی بھی نہ توڑتا۔

ایک دفعہ ان کے شاگرد نے چھاج میں گندم کی بجائے کوئی اور چیز ڈال کر گھوڑی کے سامنے رکھی تو اس کی خبر قبلہ کوہوئی تواپنے شاگرد سے فرمایا کہ آپ جماعت نہ کرایا کریں اس لیے کہ آپ نے ایک حیوان کو دھوکا دیا ہے۔

ایک دفعہ مومن کامل پیر سید فضل حسین شاہ اور استاذالعلماء ایک محفل میں اکٹھے تھے تو پیر فضل شاہ صاحب نے کہا کہ قبلہ لوگ مجھے پرہیزگار اور مقدس سمجھتے ہیں اور ہر وقت اس فکر میں ہوتا ہوں کہ کہیں حقیقی مقدس لوگ میری وجہ سے بد نام نہ ہوجائیں تو قبلہ صاحب جواب میں فرمانےلگے کہ پیر صاحب میرے نام کےساتھ لفظ مولوی کا پیوند لگا ہوا ہے میں بھی ہر وقت اس فکر میں ہو تا ہوں کہ کہیں میری وجہ سے حقیقی علماء بدنام نہ ہوجائیں۔

ایک مرتبہ پیر عبدالرحمٰن گاؤں میں مسجد تعمیر ہو رہی تھی اس کی دیواریں بن چکی تھیں تو کسی نے قبلہ سے سوال کیا کہ سرکاری سڑک پر بجری بے کار پڑی ہے کیا مسجد کے لیے وہاں سے اٹھا لیں فرمانے لگے کہ انسان کی عزت سب سے قیمتی ہے اگرچہ حکومت غیر شرعی ہے لیکن پہلے تو یہ دیکھ لیں کہ یہ بجری کسی ٹھیکیدار کی ملکیت تو نہیں ہے اور اگرہے تو پھر کسی بھی صورت جائز نہیں اوراگر حکومت کی ملکیت ہے تو پھربھی میں یہی کہوں گاکہ احتیاط برتی جائے اور اس سے اجتناب کیا جائے۔

تبلیغ و تربیت

چک ۳۸ خانیوال میں نمازصبح سے قبل ایک پوری صف تہجد گزاروں کی ہوتی تھی۔ہر جمعہ ظہرین کے بعد وعظ فرماتے تھے۔ اگر کوئی غیر شیعہ کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھتاتو آپ سوال کرتے کہ آپ کس امام کے ماننے والے ہیں اور اسے اسکے مسلک کے مطابق جواب دیتے۔

تقلید پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔بلکہ جب کوئی مسئلہ پوچھنے آتا تو پوچھتے کہ تقلید کس کی کرتے ہیں؟اگر کوئی جواب میں کہتا کہ میں تقلید نہیں کرتا تو فرماتے پھر مسئلہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟پہلے تقلید کرواتے پھر مسئلہ بتاتے اس زمانے میں آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کی تقلید کرواتے تھے۔اگر کوئی مسئلہ کتاب میں نہ ہوتا تو نجف خط لکھ کر جواب منگواتے تھے۔

ایک دن درخت کے نیچے قبلہ درس دے رہے تھے کہ ایک عالم دین عباقبا پہنے وارد ہوئےاور کہنے لگے کہ میں نجف اشرف جاناچاہتاہوں آپ مدد فرمائیےتو جواب میں فرمایاکہ میں آپ کو بھیج سکتاہوں بشرطیکہ آپ وہاں پڑھائی پر توجہ دیں ۔گھومنا پھرنا چھوڑدیں۔اس کے بعد فرمایا کہ یہ شرائع الاسلام ہے اس کی عبارت پڑھیں،موصوف اس میں کمزور نکلے پھراپنے ایک شاگرد سے فرمایاکہ آپ عبارت پڑھیں اس کے بعد پھر اس مہمان سے فرمایا کہ بہتر ہے کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ بھی میں اس طالب علم کو دے دوں بجائے اس کے کہ میں آپ کی مدد کروں۔

چک ۳۸ میں آخری وعظ سید غلام عباس شاہ کے گھر کیا اگر چہ قبلہ بہت کم گو اور نرم مزاج کے مالک تھے لیکن پھر بھی انہوں نے آخری وعظ میں سادات کی موجودگی میں فرمایا کہ میں نے آپ سادات کو بہت تبلیغ کی لیکن آپ پر کوئی اثر نہ ہوا۔اب غیر سادات سے کہوں گاکہ جو ایمان بچانا چاہتے ہیں وہ چک۳۸ سے نکل جائیں، وعظ کے اختتام پر غلام حبیب نامی شخص جو قبلہ صاحب کو بہت پیار کرتے تھےانہوں نے سوال کیا کہ قبلہ لوگ تودور دراز سے یہاں آکر دفن ہونے کی خواہش کرتے ہیں تاکہ آپ جنازہ پڑھائیں تواب آپ فرماتے ہیں چلے جاؤ ہم کہاں جائیں تو قبلہ نے جواب میں فرمایا کہ حالات نظر آ رہے ہیں یہ سادات آپ لوگوں سے سادات قتل کرائیں گے سادات کی توہین کرائیں گے اس لیے کہا ہے کہ ایمان بچانے کے لیے یہاں سے نکل جاؤ۔(اور بالآخر یہی ہوا)

آخر عمر میں ہر شب جمعہ بھی اپنے گھر میں مجلس پڑھتےتھے۔خواتین بھی پردے کے پیچھے بیٹھ جاتیں تھیں طلباء اور چند نفر سامنے بیٹھ جاتے احادیث و فرامین پڑھتےرہتے۔عربی مرثیہ جات پڑھتےاور خود بھی بہت زیادہ گریہ کرتےتھے۔یہ بات بھی اکثر فرماتے تھے کہ شیعو اول تو ہر روز بعد از نماز عشاء ورنہ ہر شب جمعہ نماز شکرانہ پڑھا کرو کہ تمھیں مذہب اہلبیت ؑنصیب ہوا۔

ایک دفعہ مشہور خطیب احمد بخش بھٹی نے کہا کہ قبلہ اگر آپ میری مجلس میں نہ آتے اور دوسروں کی مجالس میں شرکت فرماتے تو مجھے تکلیف ہوتی تو قبلہ نے جو اب میں فرمایا کہ میرے نزدیک آٓپ اور دیگر خطباء سب برابرہیں لہذا کوشش کرو کہ صحیح پڑھوا حادیث ائمہ علیہم السلام پڑھا کرو۔

علمی کمالات

علامہ مرحوم کوہر فن کی سبھی کتب حفظ تھیں مثلا شافیہ کافیہ ،سلم ،تلخیص البیان وغیرہ، مولانا مرحوم یکتا ءروز گار تھے۔اعرابی غلطی اصلاً قبول نہیں کرتے تھے۱۹۴۴ سے ۱۹۶۶ تک بغیر کتاب دیکھے پڑھاتے تھے۔

مولانا سبط حسن لکھنوی جو خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔انہوں نے ۱۹۱۶ ءمیں فاضل کا امتحان دیا توا س کے بعد علامہ مرحوم نے ملاقات میں کہا کہ مولانا آج بھی اورینٹل کالج آپ کے نام سے گونج رہا ہے۔ علامہ مرحوم نے ۱۹۰۹ میں تعلیمی بورڑکو جس انداز سے ٹاپ کیا پھرکوئی شخص علامہ مرحوم پرسبقت نہ لے سکا علامہ مرحوم نے فاضل کے پیپر میں جواب مضمون نامی پیپر عربی نظم میں لکھا تھا جو آج تک ریکارڈہے۔ علامہ مرحوم پر کسی کا سبقت لے جانا اس لیے بھی مشکل ہے کیوں کہ ان کے ہر پیپر میں ۹۹فیصد نمبر تھے۔

علامہ مرحوم کے اساتذہ میں عبداللہ ٹوکی نام کےایک معروف اہل سنت عالم بھی تھے جن کا دعویٰ تھا کہ حمد اللہ کتاب لکھی تو حمد اللہ نے ہے لیکن سمجھی میں نے ہے اور میں نے جتنا بھی سمجھاہے اسے سو فیصدیاد کیا ہے محمد باقر کی اس بات کی شہادت یہاں سے بھی ملتی ہے کہ علامہ مرحوم نے فاضل عربی میں جو حمد اللہ کا پیپر حل کیاتھا وہ کئی سال تک اورینٹل کالج لاہور میں آویزاں رہا علامہ مرحوم نے خود فرمایا کہ میرے استاد نے فرمایا کہ محمد باقر تو پڑھتا نہیں بلکہ پڑھاتا ہے۔

قصبہ ملہووالی ضلع اٹک میں ادبیات کا ماہر مولوی نورمحمد نامی شخص تھا جو تدریس بھی کیا کرتا تھا ۔ اس نے شیعہ عقائد پر فرضی اعتراضات مرتب کیے اور ایک ایسی تحریر بنائی جس کا نصف حصہ فارسی اور نصف حصہ عربی زبان پر مشتمل تھا۔ یقیناً اس حکمت عملی کا مقصد علامہ مرحوم کو اپنی زبان دانی سے مرعوب کرنا تھا ۔ علامہ مرحوم تک یہ تحریرپہنچی تو آپ نے نہایت فصیح و بلیغ انداز تحریر اپنایا اور فارسی و عربی میں ا س قدر مبسوط جواب دیا کہ مذکورہ شخص ہاتھ ملتا رہ گیا ۔

اہم واقعہ

قبلہ مرحوم اپنے زمانہ طالب علمی میں حصول علم کے حد درجہ شیدائی تھے یہاں تک کہ حصول علم کے لیے غیر مسلک و عقیدہ کے لوگوں سے بھی رجوع فرمایا کرتے تھے ۔ اسی سلسلہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ایک ایسے استاد سے درس لینے گئے جو اثنا عشری نہ تھا مذکورہ شخص آپ کی حد درجہ ذہانت و خطابت اور خدداد صلاحیت سے اس قدر حاسد ہو ا کہ آپ کو زہر خورانی سے قتل کرنے کا مذموم ارادہ کیاخوش قسمتی سے قبلہ مرحوم کو اس سازش کا بروقت علم ہو گیا اور آپ نے وہاں سے ترک سکونت فرمائی ۔

عربی ادب پر آپ کو کمال حاصل تھا جب آپ سند فراغت حاصل کر کے وطن واپس آئے تو چکڑالہ کے ایک سنی عالم مولانا احمد خان ۱۳۵۰ ھ نے آپ سے تحریری مناظرہ چھیڑااورعربی نظم جو دس اشعار پر مشتمل تھی لکھ بھیجی ۔حضرت علامہ نے اس کے جواب میں سو اشعار لکھ بھیجے جو

فلیشہداالثقلان انی رافض

کے وزن پر تھے۔اس کے بعد مولانااحمد خان نے کوئی تحریر نہیں بھیجی تقسیم سےقبل ۴۵ سال تک آپ عشرہ کی مجالس اور چہلم کی مجالس جگرؤاں ضلع لدھیانہ میں پڑھتے رہے۔ان مجالس کا مجموعہ بنام ’’المجالس المرضیہ فی اذکار العطرت نبویہ‘‘حضرت مولانا حسین بخش جاڑانے شائع کرایا ہے ۔

فقہ پر قبلہ مرحوم کو بڑا عبور تھا لکھنو سے بھی خطوط فقہی مسائل کے بارے میں آتے تھے ۔ایک دفعہ نواب عارف خان سیال جوکہ مائی جنداں کے بھائی اور اسمبلی میں چیف وہپ تھے ۔انہوں نے ایک مسئلہ پوچھا تو قبلہ صاحب نے فرمایا کہ جمعہ کے روز بتاؤں گا۔نواب عارف خان نے اصرار کیا کہ قبلہ آپ اکثر جواب دینے کے لیے جمعہ کا وعدہ کیوں فرماتے ہیں اس میں کیارا ز ہے تو قبلہ نے جواب فرمایا آپ تجاہل عارفانہ سے کام نہ لیں کیا آپ کا عقیدہ نہیں ہے کہ ہمارے وقت کا امام موجود ہے حجت خدا موجود ہے۔جن سے میں ہر مشکل میں رابطہ کرتاہوں ۔

علمی مناظروں میں شرکت

یوں تو آپ نے کئی علمی مناظروں میں شرکت کی تاہم درج ذیل دو مناظروں کا ریکارڈ ہمیں دستیاب ہو سکا :

•-۱۹۱۱ میں مناظرہ تلہ گنگ میں مولانا سید گل محمد صاحب اور ان کے بیٹے حضرت مولانا سید محمد باقر چکڑالوی موجود تھے اور انہوں نے مد مقابل مولانا کو عربی میں ایک تحریر لکھ کر بھیجی کہ وہ اس کا ترجمہ اردو میں کرے لیکن وہ نہ کر سکا (بحوالہ مقدمہ الھق مع الحیدر الکرار،ص نمبر۲۰ ،ناشر دار التبلیغ الشیعہ مکھیال ،چکوال)

•-۱۹۲۳ کے مناظرہ کندیاں میں آپ معاون مناظرتھے مکتب تشیع کی جانب سے مناظر مولانا مرزا احمد علی امرتسری تھے اور مولانا سید محمدباقر چکڑالوی ان کے معاون تھے(بحوالہ فاضل جلیل،مؤلف مولانا سید احمد شاہ کاظمی،حالات و خدمات،ص ۲۷،طبع راولپنڈی)۔

داغ مفارقت

مئی ۱۹۶۶ کے آخری ہفتہ میں قبلہ کی طبیعت بدھ رجبانہ میں ناساز ہو گئی تو حکم دیا کہ مجھے بھکر لے چلو کیونکہ قبلہ کی ساری اولاد اس وقت بھکر چک ۲۳ کھہاوڑ کلاں منتقل ہو چکی تھی۔چنانچہ یکم جون بدھ ،جمعرات کی درمیانی شب کو یہاں سے روانہ ہو ئے اور ۲ جون کی صبح کھہاوڑ پہنچ گئے۔یاد رہے کہ علامہ مرحوم کی اصل میزبان مائی جنداں سیال تقریباً ایک سال پہلے ہی وفات پا چکی تھی۔اور اب مدرسہ میں بھی محض چار پانچ طلبہ موجود تھے۔جو کہ علامہ مرحوم کے ساتھ بھکر آ گئے۔جن میں مولانا طاہر حسین ترابی (مرحوم )پرنسپل جامعہ نقویہ پنج گرائیں،اور مولانا محمد رفیق موجودہ پرنسپل مدرسہ باقر العلوم بدھ رجبانہ بھی شامل تھے۔علامہ مرحوم کی زندگی کا آخری ہفتہ یہاں گزرا۔

پھر۹ جون بروز جمعرات صبح نماز کے وقت جب جاگے تو خود فرمایا ان شا اللہ میری نجات ہوگئی ہے نماز پڑھی سورج طلوع ہوا تقریباً صبح سات بجے ان کے فرزند سید ناصر الدین مرحوم نے جب دوا دینے کی کوشش کی تو فرمایا کہ اب کوئی فائدہ نہیں پھر آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا انشا اللہ میری نجات ہو گئی ہے۔ اس وقت باہر ایک درخت تھا وہاں ان کی چار پائی لے گے وہاں پر پھر فرمایا کہ ان شا اللہ میر ی نجات ہو گئی ہے ۔پھر ان کو کمرے میں لے جایا گیا۔وہاں سیدھے لیٹے تھے تو موقع پر موجود افراد نے بتایا کہ قبلہ آسمان کی طرف آنکھیں کھول کر اس طریقے سے دیکھ رہے تھے جیسے ایک عام بینا شخص دیکھتا ہےشاید یہ وہ لمحے تھے جن کے بارے میں امیر المؤمنین ؑ کا ایک فرمان مو ہے کہ:

من یمت یرنی

جوبھی مرتا ہے وہ مجھے دیکھتا ہے

اور زبان حال سے اپنے عزیزوں اور چاہنے والوں کو پیغام دے رہے تھے جسے شہید سبط جعفر نے یوں تعبیر کیا ہے:

میں چلا ہوں علی سے ملاقات کو

جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آ گئی

اور اس کے بعد ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی

انا للہ وانا الیہ راجعون

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

۹جون بروز جمعرات ۱۹ صفر المظفر کا دن تھا ۔اس وقت دورنزدیک سبھی مؤمنین کو آپ کی رحلت کی اطلاع دی گئی۔مغرب سے پہلے نماز جنازہ ادا کر دی گئی اور ان کے حکم کے مطابق ان کے شاگرد رشید مولانا سید غلام عباس نقوی مرحوم نے پڑھائی۔

پسماندگان

علامہ مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تین فرزند عطا فرمائے اور انہوں نے تینوں کو زیور علم دین سے مزین کیا او روہ تینوں بھی وفات پا چکے ہیں۔ جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

•-مولانا سید ناصر الدین حسین نقوی مرحوم

•-مولانا سید ضیاء الدین حسین نقوی مرحوم

•-مولانا سید زین الدین حسین نقوی مرحوم

ایک یادگار واقعہ

قبلہ کی وفات کے چند دن بعدایک مرد اور عورت فاتحہ کے لیے وہاں آئے۔فاتحہ کےبعد پوچھا گیا آپ کون ہیں ہم آپ کو نہیں جانتے تو مرد نے کہا کہ میں گزشتہ دنو ں بھکر آیا ہوا تھا ۔واپس گیا تھا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں نجف زیارات پرگئی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ایک خاتون اور دو تین مرد ایک سمت سے باعجلت آ رہے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں کسی نے کہا یہ خاتون جنت ہیں میں جلدی آگے گئی اور زیا رت کی خواہش کی تو فرمانے لگی ہم بہت جلدی میں ہیں ہمارا ایک مومن جس نے ہم پر احسان کیا ہےسفر آخرت کی تیاری کررہا ہےاور ہم نے وہاں پہنچنا ہے جب میر ی بیوی نے یہ بتایا تو میں نے کہا کہ گذشتہ دنوں بھکر میں ایک سید عالم دین فو ت ہوئے ہیں یقیناً وہی ہونگے ۔تو ہم اس لیے یہاں آئے ہیں۔

تأثرات

•-مرزا احمد علی مرحوم نے شیعہ میانی میں تقریر کرتےہوئے فرمایا کہ محمد باقر ابوذر زمان ہے۔

•-قبلہ کے استادمولانا شریف حسین مرحوم نے فرمایا کہ محمد باقر میرے باقیات و صالحات سے ہے ۔

•-حافظ کفایت حسین نے فرمایا کہ شیعہ خوش قسمت ہیں کہ ان کو سید محمد باقر جیسا عالم ملاہے۔

•-سید محمد دہلوی نے فرمایا کہ اگر کوئی عالم اور زاہد کے بارے میں شیعہ سے پوچھے تو ہم سید محمدباقر اورپیر فضل حسین شاہ کا نام لیں گے ۔

•-علامہ رشید ترابی نے فرمایا: شورکوٹ والو !کتنے خوش قسمت ہو کہ تمہارے قریب زم زم جاری ہے۔

•-مرحوم ذاکر شیر شاہ ملتانی ایک دفعہ چک ۳۸ مجلس کے لیے آئے مسجد میں نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد قبلہ مرحوم کے پاس آئے اورآپکے قدموں کو چھوا اور کہا کہ اپنے استاد اور آپکے علاوہ شیر شاہ کسی کے قدموں کو چھوئے یہ ہوہی نہیں سکتا۔

•-ایک شخص قبلہ مرحوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا فلاں شخص سے کام ہے وہ چند دن جناب کے ساتھ رہا تھا۔ اگر آپ اس کے نام خط دے دیں شاید میر ا کام ہوجائے اس شخص کے اصرار پر قبلہ مرحوم نے خط لکھا کہ میں محمد باقر ہوں۔آپ اور میں فاضل کی کلاس میں چند روز اکٹھے تھے اس شخص کا آپ سے کام ہے اگر کر دیں تو مہربانی ہو گی۔جب اس سائل نےیہ رقعہ اس افسر کو جاکر دیا تو اس نے فوراًکام بھی کر دیا اور جواب لکھا کہ ’’من رأک لاینساک‘‘یعنی جس نے محمد باقر آپ کوایک دفعہ دیکھ لیا وہ کبھی نہ بھولا ۔

•-مولانا زین العابدین مرحوم شاہ گردیزملتان میں خطیب تھے ۔انکے پاس مولاناسید گلاب علی شاہ ،فاضل کاامتحان پاس کرنے کے بعد علامہ مرحوم کاخط لے کر آئے کہ انہوں نے فاضل کیاہواہے۔ آپ امداد کریں تاکہ ان کوبحیثیت مدرس ذمہ داری مل جائے ،مولانا زین العابدین شاہ نے اس خط کو چوما آنکھوں پر لگایا اورفرمایا کہ اگر ہمارے مذہب میں بیعت جائز ہوتی تو میں اس سید کی ضرور بیعت کرتا ۔

•-علامہ محمد حسین نجفی نے فرمایا:میں نے بہت کم ایسے علماء دیکھے ہیں کہ جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہوں واجبات تو بجائے خود مستحبات کو بھی بر وقت بجا لاتے ہوں ایک روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ انبیا ء ؑ اور ائمہ ؑ کے بعدبہترین لوگ کون سے ہیں تو امامؑ نے فرمایا العلماءاذا صالحوا (صالح علماء)پھر سوال کیا ۔ابلیس اور اس کے انصار کے بعد بدترین خلائق کون ہیں تو جواب میں فرمایا وہ علماء جو بے عمل ہوں۔بے شک استاذالعلماء باعمل تھے۔مومن کامل تھے۔اور یہ کہ ایسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔

؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا

معروف تلامذہ

یوں توآپ کے کافی شاگرد ہیں ان میں سےبعض یہ ہیں۔

•-استاذالعلماءحضرت علامہ سید محمد یارشاہ نجفی اعلیٰ اللہ مقامہ

•-استاذالعلماءحضرت علامہ سید اختر عباس نجفی اعلیٰ اللہ مقامہ

•-استاذالعلماء حضرت علامہ سید گلاب علی شاہ نقوی اعلیٰ اللہ مقامہ

•-مولاناسید غلام عباس نقوی مرحوم

•-مولاناخواجہ محمد لطیف انصاری ؒ مرحوم

•-مولاناسید محبوب علی شاہ مرحوم

•-مولاناسید آغامحسن شہید۔

•-حضرت مولانا علامہ حسین بخش نجفی مرحوم

•-حضرت مولانا سید محسن علی چھینویؒ مرحوم

•-مولانا طاہر حسین ترابی مرحوم

•-مولانا سید عبدالستار شاہ مرحوم

•-مولانا عبدالحسین خان نوانی مرحوم

•-مولانا محمد رضا خان نوانی مرحوم

•-مولانا سید الطاف حسین نقوی مرحوم

اس کے علاوہ وہ تلامذہ جو بقید حیات ہیں

1.-حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حسین نجفی مدظلہ العالیٰ

2.-مولانا سید حسن علی نقوی عرف جانےیا علی

3.-مولانا مقبول حسین ڈھکو

4.-مولانا محمد رفیق

5.-مولانا محمد نواز کربلائی

ظفر عباس شہانی

منبع: www.shahani.net