کتاب الکافی کا تعارف..2

کتاب الکافی کا تعارف..2

علامہ مجلسی شرح کافی کے مقدمے میں فرماتے ہیں: ”وَ ابْتَدَأْتُ بِكِتَابِ الْكَافِيْ لِلشَّيْخِ الصَّدُوْقِ، ثِقَةِ الْإِسْلَامِ، مَقْبُوْلِ طَوَائِفِ الْأَنَامِ، مَمْدُوْحِ الْخَاصِّ وَ الْعَامِّ، مَحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوْبِ الْكُلَيْنِيِّ، حَشَرَهُ اللهُ مَعَ الْأَئِمَّةِ الْكِرَامِ؛ لِاَنَّهٗ كَانَ أَضْبَطَ الْاُصُوْلِ وَ أَجْمَعَهَا، وَ أَحْسَنَ مُؤَلَّفَاتِ الْفِرْقَةِ النَّاجِيَةِ وَ أَعْظَمَهَا.“{مرأۃ العقول، ج ۱، ص ۳۴} ”اور میں نے کتابِ […]

ادامه مطلب ...